بہار ریاستی اقلیتی کمیشن نے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے نئے ڈگری کالجوں میں اردو کو نظرانداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
۲۰۸؍بلاکوں میں قائم ہونے والے نئے ڈگری کالجوں میں اردو مضمون کے اساتذہ کے عہدےمنظورنہیں کئےگئےہیں ۔تصویر:آئی این این
حکومت بہار کے سات عزائم ۔۳؍کے تحت ریاست میں مجوزہ ۲۰۸؍ نئے ڈگری کالجوں میںاردو کی تعلیم کو نظرانداز کئے جانے پر اردو داں حلقہ میں شدید تشویش اور غم وغصہ ہے۔لوگوں نے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے اور اردو کو اس کا حق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس تعلق سے میڈیا میںشائع خبر اور سوشل میڈیا پر لوگوں کے تاثرات کا بہا ر ریاستی اقلیتی کمیشن نے بھی نوٹس لیا ہے۔ کمیشن کے صدر مولانا غلام رسول بلیاوی نے اردو داں حلقہ کی تشویش اور ان کے غم وغصہ کی طرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری کی توجہ مبذول کراتے ہوئے انہیں مکتوب بھیجاہے۔ بہار ریاستی اقلیتی کمیشن نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام نئے ڈگری کالجوں میں اردو مضمون کے لئے بھی اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے منظور کئے جائیں تاکہ اردو داں طلبہ کو تعلیم کے مساوی مواقع مل سکیں اور ریاست میں اردو زبان کا فروغ یقینی بنایا جا سکے۔
اقلیتی کمیشن کے چیئرمین غلام رسول بلیاوی نے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلیٰ کو مکتوب ارسال کر کے نئے ڈگری کالجوں میں اردو مضمون کو نظرانداز کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی حکومت کے سات عزائم (۳۰۔۲۰۲۵) کے تحت ۲۰۸؍بلاکوں میں قائم ہونے والے ڈگری کالجوں میں ہندی ،انگریزی اور دیگر مضامین کے لئے اساتذہ کے عہدے تو منظور کئےگئےہیں لیکن اردو مضمون کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
کمیشن نے حکومت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ بہار کی دوسری سرکاری زبان اردو کو نظرانداز کرنے سے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بڑی تعداد میں اردو داں طلبہ کو مجبوراً دیگر مضامین اختیار کرنے ہوں گے یا دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑے گا جو ان کے لئے مالی اور سماجی طور پر دشوار کن ہوگا۔ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے قبل مختلف اضلاع میں مجوزہ ڈگری کالجوں کے لئے اساتذہ کی اسامیوں میں اردو کو شامل کیا گیا تھا لیکن حالیہ نوٹیفکیشن میں اسے نظرانداز کر دیا گیا ہے جو قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء اور ریاستی لسانی پالیسی کے منافی ہے۔بہار ریاستی اقلیتی کمیشن نے حکومت سے نئے ڈگری کالجوں میں اردو کے اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنانے کیلئے مؤثر اقدام کرنے اور اس سے کمیشن کو مطلع کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔