Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب بہار میں بھی نام بدلنے کا غیر ضروری اقدام شروع

Updated: May 01, 2026, 11:30 AM IST | Mumbai

ریاست میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بنتے ہی چڑیا گھر اور ڈیری انسٹی ٹیوٹ سے سنجے گاندھی کا نام ہٹا دیا گیا۔

Bihar Chief Minister Samrat Chaudhary. Photo: INN
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری۔ تصویر: آئی این این

دیگر بی جے پی حکمراں ریاستوں کی طرح اب بہار میں بھی ’نام بدلنے کا کھیل‘ شروع ہو گیا ہے۔ بہار میں پہلی بار بی جے پی کا کوئی لیڈر وزیر اعلیٰ بنا ہے، اور اس کے ساتھ ہی حکومت کے فیصلوں پر بی جے پی نظریات کا عکس بھی صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت والی حکومت نے پٹنہ میں واقع تاریخی چڑیا گھر اور ڈیری ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے نام بدلنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ چڑیا گھر اور انسٹی ٹیوٹ کے نام پہلے سنجے گاندھی سے منسوب تھےلیکن اب حکومت نے ان دونوں کے نام تبدیل کر دئیے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ’سنجے گاندھی بائیولوجیکل پارک‘ کا نام بدل کر حکومت نے اب ’پٹنہ زو‘ اور ’سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیری ٹیکنالوجی‘ کا نام بدل کر ’بہار اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیری ٹیکنالوجی‘ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روبوٹک گارڈ کی مدد سے ڈوبتے ہوؤں کو بچایا گیا

سمراٹ کابینہ کی میٹنگ میں بدھ کے روز نام بدلنے کے ان تجاویز پر مہر لگ گئی ۔ پٹنہ کے بیلی روڈ کے پاس واقع چڑیا گھر ۱۹۷۳ء میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا تھا اور تب سے ہی یہ سیاحوں کی کشش کا مرکز بنا ہوا ہے۔بہار حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے اس چڑیا گھر کا نام سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بڑے بیٹے سنجے گاندھی کے نام پر رکھا گیا تھا۔۱۵۳؍ ایکڑ میں پھیلے اس چڑیا گھر میں ۱۱۰؍ سے زیادہ اقسام کے۸۰۰؍ سے زائد جانور ہیں ۔

اسی طرح سنجے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیری ٹیکنالوجی، پٹنہ کو آئی سی اے آر سے منظوری حاصل ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کا قیام بہار حکومت نے ۱۹۸۰ء میں کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کا اپنے کارکنوں کو اسٹرانگ روم پر پہرہ دینےکا حکم

یہاں ڈیری ٹیکنالوجی میں بی ٹیک اور ایم ٹیک جیسے کورسیز چلائے جاتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی کانگریس لیڈر تھے۔ سنجے گاندھی کی اہلیہ مینکا گاندھی بی جے پی میں ہیں اور اتر پردیش سے لوک سبھا رکن بھی رہ چکی ہیں ۔ ان کے بیٹے ورون گاندھی بھی بی جے پی میں ہی ہیں اور ایک وقت پارٹی کے فائر برانڈ لیڈروں میں شمار کیے جاتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK