Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار: تمام تعلیمی اداروں میں کسی بھی پروگرام سے قبل وندے ماترم لازمی قرار

Updated: April 29, 2026, 3:06 PM IST | Patna

بہار حکومت نے تمام تعلیمی اداروں میں کسی بھی پروگرام سے قبل وندے ماترم کو لازمی قرار دے دیا، یہ ہدایت محکموں کے اعلیٰ افسران، بشمول اضافی چیف سکریٹریز، پرنسپل سکریٹریز، سکریٹریز، محکمہ جات کے سربراہان، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، ڈویژنل کمشنرز اور ضلع مجسٹریٹ کو جاری کر دی گئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

بہار حکومت کے حال ہی میں جاری کردہ ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پروگراموں کا آغاز قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ سے کریں اور اختتام ریاستی گیت ’’میرے بھارت کے کانتھ ہار‘‘ پر کریں۔ یہ ہدایت محکموں کے اعلیٰ افسران، بشمول اضافی چیف سکریٹریز، پرنسپل سکریٹریز، سکریٹریز، محکمہ جات کے سربراہان، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، ڈویژنل کمشنرز اور ضلع مجسٹریٹس کو جاری کر دی گئی ہے۔دریں اثناء مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’’ وزارت داخلہ کی طرف سے پہلے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق ’’وندے ماترم‘‘ کو قومی ترانے جیسا ہی احترام دیا جانا چاہیے۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اسے گاتے وقت لوگوں کو کھڑے ہو کر مناسب احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اور جہاں ممکن ہو اسے قومی ترانے کے ساتھ ملایا جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: افسر پر کیچڑ پھینکنے کی پاداش میں نتیش رانے کو ایک ماہ کی سزا

دوسری طرف، راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ اابھے کشواہا نے مختلف رائے دی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں روایتی طور پر کلاسوں سے پہلے مختلف موضوعات اور پیغامات پر مشتمل مختلف گیت گائے جاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارے میں صرف ’’وندے ماترم‘‘ کا گانا ضروری نہیں ہے۔ تاہم اس ہدایت پر سوشل میڈیا پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ صارفین نے اسے قوم پرستی کا عکاس قرار دیتے ہوئے خوش آمدید کہا ہے، جبکہ دیگر نے حکومت پر اسے لازمی قرار دینے پر تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ چڈھا اور اُن کے ساتھیوں کا بی جےپی میں جانا ’فکسڈ میچ‘ ہے‘‘

واضح رہے کہ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے استعفیٰ کے بعد یہ عہدہ بھارتی جنتا پارٹی کے حصے میں آیا ہے، جس نے اپنے زیر اقتدار بیشتر ریاستوں میں ’’ وندے ماترم ‘‘ کو لازمی قرار دیا ہے۔بہار حکومت کا یہ حکم نامہ اسی سلسلے کی ایک تازہ ترین کڑی ہے۔ تاہم اس حکم نامے پر بہار کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طبقات کے رد عمل کا انتظار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK