Inquilab Logo Happiest Places to Work

بریلی ٹرین واقعہ: عالم دین کی موت پر سوالات، کنبہ کا ’حملہ، قتل‘ کا دعویٰ

Updated: April 30, 2026, 10:01 PM IST | bareilly

بہار کے ضلع کشن گنج سے تعلق رکھنے والے ۳۰؍ سالہ مولانا توصیف رضا مظہری کی بریلی کے قریب ٹرین سے گر کر موت نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ریلوے حکام اسے حادثہ قرار دے رہے ہیں، تاہم اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں چلتی ٹرین میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر باہر پھینکا گیا۔ بیوی کی ویڈیو کال پر مبینہ حملے کی گواہی اور جسم پر زخموں کے دعووں نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر مکمل تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بہار کے ضلع کشن گنج سے تعلق رکھنے والے ۳۰؍ سالہ مولانا توصیف رضا مظہری کی موت نے ایک بار پھر ٹرینوں میں مسافروں کی حفاظت اور مبینہ ہجومی تشدد کے خدشات کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ ۲۶؍ اپریل ۲۰۲۶ء کی رات پیش آیا، جب مولانا رضا کی لاش اتر پردیش کے شہر بریلی کے قریب ریلوے پٹریوں کے پاس ملی۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ ایک حادثہ ہو سکتا ہے، تاہم اہلِ خانہ اور مقامی افراد اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے منصوبہ بند حملہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بچو کڑو کا شندے گروپ میں شمولیت سے انکار مگر گفتگو کا دروازہ کھلا رکھا

آخری کال اور بیوی کا بیان
مرحوم کی اہلیہ تبسم خاتون نے اپنے بیان میں واقعے سے پہلے کے لمحات کو نہایت دردناک انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’انہوں نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ کچھ لوگ انہیں مار رہے ہیں… وہ بہت خوفزدہ تھے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’وہ لوگ انہیں چور کہہ رہے تھے۔ انہوں نے ویڈیو کال پر اپنی کتابیں دکھائیں اور کہا، میں چور نہیں ہوں، میں مدرسے میں پڑھاتا ہوں… لیکن کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔‘‘ تبسم کے مطابق انہوں نے ویڈیو کال پر حملہ دیکھا کہ ’’میں نے دیکھا کہ انہیں گھسیٹا جا رہا تھا، تھپڑ مارے جا رہے تھے… یہ بہت خوفناک تھا۔‘‘

اہلِ خانہ کے الزامات
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جسم پر موجود زخم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ محض گرنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ تشدد کیا گیا۔ تبسم خاتون نے کہا کہ ’’اگر وہ گرنے سے مرے ہوتے تو جسم زیادہ متاثر ہوتا، لیکن ان کے جسم پر واضح مارپیٹ کے نشانات تھے۔‘‘ مرحوم کے چچا نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ پہلے انہیں نشانہ بنایا گیا اور پھر لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ چور ہیں تاکہ ہجوم ان کے خلاف ہو جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: قسط ادا نہ کرنے پر ریکوری ایجنٹوں کے ہاتھوں صارف کی پٹائی

شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا خدشہ
مقامی افراد نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ مولانا کو ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہو۔ ایک مقامی شہری نے کہا کہ ’’ان کی ڈاڑھی اور ٹوپی دیکھ کر انہیں نشانہ بنایا گیا ہو سکتا ہے… یہ حادثہ نہیں لگتا۔‘‘ تاہم، اس دعوے کی ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور حکام نے اس پہلو پر کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔

خوف اور بے چینی کی فضا
واقعے کے بعد علاقے میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو روزگار کے لیے ٹرینوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ ’’لوگ اب ٹکٹ منسوخ کر رہے ہیں… انہیں ڈر ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال کی ایس آئی آر پر رپورٹنگ کےبعد کشمیری صحافی قرۃ العین رہبر کو بدسلوکی اور ڈاکسنگ کاسامنا

تحقیقات کی موجودہ صورتحال
ابھی تک اس معاملے میں باضابطہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، تاہم اہلِ خانہ قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مقامی افراد اور سماجی حلقے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مکمل جانچ کی جائے، ٹرین میں موجود مسافروں کی شناخت کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
خیال رہے کہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے۔ حتمی نتیجہ فورنسک رپورٹ اور باضابطہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK