Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہ آباد ہائی کورٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد قید میں رکھی گئی بہنوں کیلئے ۲۵ لاکھ روپے معاوضہ کا حکم

Updated: August 11, 2026, 7:03 PM IST | Lucknow

کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین کے آرٹیکل ۲۱ اور ۲۵ کے تحت بالغ خواتین کو اپنے عقیدے، رہائش اور ذاتی تعلقات کا تعین کرنے کا ”ناقابلِ تنسیخ آئینی حق“ حاصل ہے اور اس خودمختاری کو والدین کے اختیار، سماجی اخلاقیات یا اکثریتی جذبات کے ذریعے رد نہیں کیا جا سکتا۔

Allahabad High Court. Photo: X
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: ایکس

الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے والد کے ذریعے قید میں رکھے جانے والی دو بہنوں کو ۲۵ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ذمہ دار مشترکہ اور انفرادی طور پر والد اور اتر پردیش حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ 

جسٹس سندیپ جین نے ۶ اگست کو پاس کئے گئے فیصلے میں دیا بھاٹیا (اب زویا دیا بھاٹیا) اور انشو بھاٹیا (اب آمنہ انشو بھاٹیا) کو اپنے والد یا ریاست کی مداخلت کے بغیر جہاں اور جس کے ساتھ بھی وہ چاہیں رہنے کیلئے آزاد قرار دیا۔ معاوضہ دونوں کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا اور یوپی حکومت نیز خاندان کی طرف سے ۸ ہفتوں کے اندر ادا کیا جائے گا۔ عدالت نے پایا کہ تقریباً ۲۰ اور ۳۵ سال کی ان خواتین کو ۲۰۲۱ء سے آزادی سے محروم رکھا گیا تھا اور ریاستی انتظامیہ نے فوجداری کارروائی کے ”بظاہر احاطے“ میں ان کی مسلسل قید کی اجازت دی۔ عدالت نے کہا کہ ایسی ”انتظامی بے حسی اور آئینی لاپروائی“ کو عدالتی منظوری نہیں مل سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: آسام میں تین کروڑ سے زائد شہری شناختی کارڈ سے محروم

یہ کیس حبسِ بے جا کی ایک درخواست سے شروع ہوا تھا۔ مقدمہ میں الزام لگایا گیا تھا کہ بہنوں نے ۲۰۲۰ء میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور وہ اپنی پسند کے مطابق شادی کرنا چاہتی تھیں، جس کے بعد ان کے والد نے اغوا کا کیس درج کرایا اور بعد میں یوپی الیگل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ (غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کا قانون) کی دفعات شامل کرا دیں۔ عدالت نے ریاست کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ تبدیلیٔ مذہب سے قومی خودمختاری اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس کا کوئی معاون مواد موجود نہیں ہے۔

بنچ نے فیصلہ دیا کہ آئین کے آرٹیکل ۲۱ اور ۲۵ کے تحت بالغ خواتین کو اپنے عقیدے، رہائش اور ذاتی تعلقات کا تعین کرنے کا ”ناقابلِ تنسیخ آئینی حق“ حاصل ہے اور اس خودمختاری کو والدین کے اختیار، سماجی اخلاقیات یا اکثریتی جذبات کے ذریعے رد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ریاست کو قانونی عمل کے بعد معاوضہ وصول کرنے کی بھی اجازت دی۔ ۵۰ فیصد والد سے اور ۵۰ فیصد کسی بھی ذمہ دار پبلک سرونٹ سے۔ والد کو ہدایت کی گئی کہ وہ سات دنوں کے اندر خواتین کے پاسپورٹ، تعلیمی اسناد اور دیگر ذاتی دستاویزات انہیں سونپ دیں اور مستقبل میں ان کی زندگیوں میں مداخلت نہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK