سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماءہند اور ’آمسو‘ کی عرضی پر مرکز اور آسام حکومت نے جواب جمع نہیں کرایا، شناختی کارڈ جاری کرنے میں ٹال مٹول پر مولانا ارشد مدنی برہم۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 1:42 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماءہند اور ’آمسو‘ کی عرضی پر مرکز اور آسام حکومت نے جواب جمع نہیں کرایا، شناختی کارڈ جاری کرنے میں ٹال مٹول پر مولانا ارشد مدنی برہم۔
آسام میں حتمی این آر سی کے نفاذکے باوجود ۶؍سال بعد بھی ۳؍ کروڑ سے زائد شہریوں کوشناختی کارڈ سے محروم رکھے جانے کے خلاف جمعیۃ علماء ہند اور آمسو کی عرضی پرمرکزی حکومت اور آسام حکومت نے ابھی تک اپنا جواب دائر نہیں کیا۔ سپریم کورٹ میں پیر کو جسٹس ایس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی دو رکنی بنچ کے روبرو معاملہ کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کیلئے مزید ۶؍ہفتہ کی مہلت طلب کی جس کو عدالت نے قبول کرلیا۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے اور اب انہیں اپنا اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن پر جواب داخل کیا جا چکا، جس کے جواب میں جمعیۃ علماء ہندجلد ہی جوائنڈر داخل کرے گی۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے۶؍ سال کے باجود اس میں شامل افراد کو اب تک نیشنل شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام میں سیلاب کی صورتحال سنگین، گولاگھاٹ میں ۵۲؍ ہزار افراد متاثر
سپریم کورٹ کی پیر کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مرکزی اور آسام حکومتوں کا نوٹس کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کے ۶؍ سال بعد بھی قانونی عمل کو مکمل نہ کرنا اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کیلئےدانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں اس حساس مسئلہ کو لے کر آسام میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دےکر اکثریت کی نگاہ میں ان کی حیثیت کو مشکوک بناتی رہی ہیں جس کی وجہ وہاں سماجی سطح پر ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے، پنچائیت سرٹیفکیٹ کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہو، شہریت کے لئے حتمی تاریخ کے تعین کامعاملہ ہویا پھر ریاست میں مدارس کو بند کرنے کی سازش جمعیۃ علماء ہند ہر ایسے موقع پر مظلوموں کے ساتھ پوری طاقت سے کھڑی رہی اوران کے مقدمات کامیابی کے ساتھ لڑتی آئی ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ بی جے پی کی موجودہ ریاستی حکومت امتیاز اورنفرت کی سیاست اورمسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیراہے اورسیاسی فائدہ کے لئے وہ شہریت کے مسئلہ کو بدستورزندہ رکھنا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حتمی این آرسی کے بعد بھی لوگوں کو شناختی کارڈجاری کرنے میں دانستہ ۶؍ سال سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ مولانا مدنی نے اخیر میں کہاکہ آسام کے مسلمانوں کو کبھی ’غیر ملکی‘ کہہ کر نشانہ بنایا گیا، کبھی ان کی شہریت اور دستاویزات پر سوال اٹھائے گئے، ڈی ووٹر اور فارنرز ٹریبونل کے نام پر انہیں برسوں ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا گیا، اور اب حتمی این آر سی میں نام شامل ہونے کے باوجود شناختی کارڈ کے لیے انتظار کرایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی کی رہنمائی ورسرپرستی میں جمعیۃعلماء آسام، صدر مولانا مشتاق عنفر کی سربراہی میں ، این آرسی اورپنچایت سرٹیفکیٹ۶؍اے جیسے اہم مقدمات ۱۴؍ سال سے لڑتی رہی اور اس میں کامیابی حاصل کی کیونکہ آسام میں یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ تھا۔