Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی کی ”بائی ناؤ، ہےلیٹر“ کی عادت پر آر بی آئی کو تشویش،واجب الادا رقم میں سالانہ ۴۰ فیصد کااضافہ

Updated: August 11, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

سِبل ٹرانس یونین کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی کریڈٹ کے معاملے میں متحرک آبادی ایک دہائی قبل کے ۱۱ فیصد سے بڑھ کر اب تقریباً ۲۸ فیصد ہوگئی ہے۔ حد سے زیادہ قرض کے تلے دبے ہوئے صارفین کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں حد سے زیادہ قرض لینے کا رجحان کم عمر صارفین میں زیادہ دیکھا گیا، جن کا کریڈٹ ایکٹو بیس میں حصہ ۲۰۱۷ء کے ۳۳ فیصد سے بڑھ کر ۲۰۲۶ء میں ۳۹ فیصد ہوگیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہندوستان کا گھریلو قرضہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ریگولیٹرز کو بالخصوص اس کی ساخت کے حوالے سے تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، مارچ ۲۰۲۶ء تک غیر رہائشی خوردہ قرضے (non-housing retail loans)، جو زیادہ تر ذاتی استعمال کیلئے استعمال ہوتے ہیں، گھریلو قرضوں کا ۴ء۵۸ فیصد حصہ بن چکے ہیں۔ ایک سال پہلے یہ شرح ۹ء۵۴ فیصد تھی۔ فی قرض دہندہ اوسط واجب الادا رقم مارچ ۲۰۲۵ء کے اختتام تک بڑھ کر ۷۸ء۴ لاکھ روپے ہوگئی، جو مارچ ۲۰۱۸ء کے اختتام پر ۴۱ء۳ لاکھ کروڑ روپے تھی۔

پارلیمنٹ میں شیئر کئے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ سونے کے زیورات کے عوض باقی ماندہ قرضے (outstanding loans) مارچ ۲۰۲۲ء میں ۷۴۷۳۸ کروڑ روپے تھے جو تیزی سے بڑھ کر مارچ ۲۰۲۶ء میں ۶۱ء۴ لاکھ کروڑ روپے ہوگئے، جبکہ اسی مدت کے دوران دیگر ذاتی قرضے ۰۲ء۹ لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر ۳۲ء۱۷ لاکھ کروڑ روپے ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: یو پی آئی صارفین کے لیے مفت رہے گا: وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے گھریلو قرضوں کے جمع ہونے، خاص طور پر کم درجہ بندی والے قرض دہندگان کے درمیان، کو ”قریب سے نگرانی“ کا مستحق قرار دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ اگر مغربی ایشیاء کی کشیدگی کی وجہ سے معاشی حالات کمزور ہوتے ہیں تو اس سے اثاثوں کے معیار کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء تک، محفوظ خوردہ قرضوں (secured retail loans) کیلئے گراس این پی اے (Gross NPA) کا تناسب ۷ء۰ فیصد اور غیر محفوظ خوردہ قرضوں (unsecured retail loans) کیلئے ۷ء۱ فیصد تھا۔

۵۰ ہزار روپے سے کم کے چھوٹے ذاتی قرضوں میں فنٹیک (fintech) کمپنیوں نے ۸ء۵۶ فیصد مارکیٹ شیئر پر قبضہ کرلیا ہے، جن میں وقت پر قرض کی قسط ادا نہ کرنے (delinquency) کی شرح ۴ء۶ فیصد ہے۔ فنٹیک قرضوں کے پورٹ فولیو کا تقریباً ۵ء۷۰ فیصد حصہ غیر محفوظ ہے، جس میں سے تقریباً نصف حصہ، ۳۵ سال سے کم عمر کے قرض دہندگان کو دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مہنگائی کی دستک، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں

سِبل ٹرانس یونین (CIBIL TransUnion) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی کریڈٹ کے معاملے میں متحرک آبادی ایک دہائی قبل کے ۱۱ فیصد سے بڑھ کر اب تقریباً ۲۸ فیصد ہوگئی ہے۔ حد سے زیادہ قرض کے تلے دبے ہوئے صارفین کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان کی تعداد مالیاتی سال ۲۰۱۷ء میں ۵ فیصد تھی جو مالیاتی سال ۲۰۲۴ء میں ۱۸ فیصد تک پہنچ گئی۔ مالیاتی سال ۲۰۲۶ء میں اس میں کمی آئی اور یہ شرح ۱۵ فیصد پر آگئی۔ اس میں حد سے زیادہ قرض لینے کا رجحان کم عمر صارفین میں زیادہ دیکھا گیا، جن کا کریڈٹ ایکٹو بیس میں حصہ ۲۰۱۷ء کے ۳۳ فیصد سے بڑھ کر ۲۰۲۶ء میں ۳۹ فیصد ہوگیا۔

سی آر آئی ایف ہائی مارک (CRIF High Mark) کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ مالیاتی سال میں کریڈٹ کارڈ کا واجب الادا قرضہ ۳ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرگیا، جس میں ۹۰ سے ۳۶۰ دن کے درمیان کی تاخیر والی قسطوں کی عدم ادائیگی سالانہ بنیادوں پر ۴۰ فیصد سے زیادہ بڑھیں۔ کنسرٹس اور سفر کی وجہ سے عام صارفین کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بینک آف بڑودہ کے معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ کنسرٹس کی وجہ سے ۲۴ مہینوں کے دوران ۱۶۰۰ سے ۲۰۰۰ کروڑ روپے صارفین نے خرچ کئے۔ مٹھوٹ فنانس کے مطابق، ۲۰۲۵ء کے اوائل میں ۲۵ فیصد سے زیادہ ذاتی قرضے سفر کیلئے لئے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK