Updated: August 11, 2026, 8:05 PM IST
| New Delhi
حکومت نے پیر کو قبول کیا کہ ہوائی اڈہ آپریٹر کے طیارہ سروس کمپنی کی ملکیت رکھنے کے قانون میں چھوٹ کے لیے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کو درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ شہری ہوا بازی کے وزیر مملکت مرلی دھر موہول نے راجیہ سبھا میں ایک غیر نشان زد سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔
ہوائی اڈہ۔ تصویر:آئی این این
حکومت نے پیر کو قبول کیا کہ ہوائی اڈہ آپریٹر کے طیارہ سروس کمپنی کی ملکیت رکھنے کے قانون میں چھوٹ کے لیے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کو درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ شہری ہوا بازی کے وزیر مملکت مرلی دھر موہول نے راجیہ سبھا میں ایک غیر نشان زد سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ سی پی آئی (ایم) کے جان برٹاس کے سوال کے جواب میں مسٹر موہول نے بتایا کہ بڑے ہوائی اڈوں کے آپریٹرز کے طیارہ سروس کمپنی میں بڑی حصے داری رکھنے پر پابندی کے بارے میں حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے، لیکن پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کی بنیاد پر ہوائی اڈوں کا آپریشن کر رہی کچھ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے میں اس کی حد طے کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اے اے آئی کے ساتھ موجودہ معاہدوں کے مطابق، یہ کمپنیاں کسی طیارہ سروس کمپنی میں ۱۰؍ فیصد سے زیادہ کی حصے داری نہیں رکھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فرحان اختر کا رنویر سنگھ کو طنزیہ اشارہ،’ ’صرف میرے ساتھ ہی نہیں، ایسا ہوتا ہے‘‘
موہول نے بتایا کہ اس حد میں رعایت کے لیے اے اے آئی کو درخواستیں موصول ہوئی ہیں حالانکہ شہری ہوا بازی کی وزارت نے ابھی اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکنِ اسمبلی مہوا موئترا نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک خط شیئر کیا تھا جو مبینہ طور پر اڈانی ایئرپورٹس کی طرف سے اے اے آئی کو ۴؍ جون۲۰۲۶ء کو لکھا گیا تھا۔ اس میں اتھارٹی سے اس قانون میں رعایت کی درخواست کی گئی ہے۔ حالانکہ اڈانی ایئرپورٹس کے ذرائع نے اس خط کے درست ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
گزشتہ ماہ میڈیا میں خبر آئی تھی کہ حکومت اڈانی اور دوسری ہوائی اڈہ آپریٹر کمپنیوں کو ایئر لائنز کی ملکیت رکھنے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔ اڈانی گروپ نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحال طیارہ سروس کے کاروبار میں داخل ہونے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ معاملے کی معلومات رکھنے والے انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے میں اڈانی ایئرپورٹس نے اے اے آئی کو خط لکھا تھا جس میں ۱۰؍ فیصد کی حد کو بڑھانے کی بات کہی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں بڑی تعداد میں انڈیگو کی پروازیں منسوخ ہونے کے بعد نجی ہوائی اڈہ آپریٹرز سے حکومت نے ایئر لائنز کے کاروبار میں ان کے داخلے کے امکانات کے بارے میں رائے مانگی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:اس بار ہاکی ورلڈ کپ ہمارا ہوگا: سلیمہ ٹیٹے
شہری ہوا بازی کے وزیر کنج راپو رام موہن نائیڈو خود کئی موقعوں پر کہہ چکے ہیں کہ ملک میں دو طیارہ سروس کمپنیوں کے پاس ۹۰؍ فیصد سے زیادہ مارکیٹ پر قبضہ ہونا ٹھیک نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ نئی طیارہ سروس کمپنیاں سامنے آئیں۔