یوگی سرکار کو متنبہ کیا کہ ’’بلڈوزر انصاف‘‘قانون کی حکمرانی کے منافی ہے
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 8:16 AM IST | New Delhi
یوگی سرکار کو متنبہ کیا کہ ’’بلڈوزر انصاف‘‘قانون کی حکمرانی کے منافی ہے
اتر پردیش میں انہدامی کارروائیوںجنہوں قومی میڈیا ’’بلڈوزر جسٹس‘‘ قرار دیتاہے، پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے نومبر ۲۰۲۴ء کے فیصلے کے باوجود ریاست میں بلڈوزر کارروائیاں جاری ہیں۔ عدالت نے حکومت کو یاد دہانی کرائی کہ بلڈوزر انصاف قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ واضح طور پر کہہ چکاہے کہ ’بلڈوزر جسٹس‘ ناقابل قبول ہے۔ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ریاستی حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ کسی جرم کے فوراً بعد کسی ڈھانچے کو منہدم کرنا کیا انتظامی اختیارات کاغلط استعمال نہیں ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس کے سامنے ایسے کئی معاملات آئے ہیں جن میں کسی جرم کے ارتکاب کے فوراً بعد مکینوں کو انہدام کا نوٹس جاری کیا گیا اور بظاہر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد رہائشی مکانات منہدم کر دیئے گئے۔عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ انہدام سے متعلق ریاست کے اختیار اور آئین ہند کے آرٹیکل ۱۴؍ اور ۲۱؍ کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے، اس لئے وہ اس پر سماعت کریگی۔کورٹ نے ۹؍ فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت جس معاملہ کی شنوائی کررہی ہے اس میں درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ وہ ایف آئی آر میں شریک ملزم نہیں ہیں، اس کے باوجود مقدمہ درج کرنےکے فوراً بعد ان کے مکانوں کے خلاف نوٹس جاری کیا گیا۔