Updated: February 03, 2026, 4:13 PM IST
| Luckhnow
الہ آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود اترپردیش میں بلڈوزر کارروائی کے ذریعے سزا کے طریقہ کار کے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عدالت نے تبصرہ کیا کہ جرم کی شکایت درج ہونے کے فوراً بعد رہائشیوں کو انہدامی نوٹس جاری کر دئے گئے، اور بظاہر قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد عمارتیں گرادی گئیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں ایگزیکٹو اختیارات کے مروجہ استعمال کے انداز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حال ہی میں کہا کہ سپریم کورٹ کے نومبر۲۰۲۴ء میں ’بلڈوزر انصاف‘ معاملے میں دیے گئے فیصلے کے باوجود ریاست میں سزا کے طور پر عمارتوں کے انہدام کا سلسلہ جاری ہے۔کورٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی الزام میں معاملہ درج ہونے کے فوراً بعد عمارت کو گراناحکومتی اختیارات کا بے جا استعمال ہے۔جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ ریاست کی عمارتیں گرانے کی طاقت اور آئین کے آرٹیکل۱۴؍ اور۲۱؍ کے تحت رہائشیوں کے بنیادی حقوق سے جڑے آئینی خدشات کا حامل ہے، اس لیے انہوں نے غور کے لیے کئی قانونی سوالات مرتب کیے ہیں۔کورٹ یہ جانچنا چاہتی ہے کہ آیا سپریم کورٹ کے نومبر۲۰۲۴ء کے فیصلے، خاص طور پر فیصلے کے پیرا۸۵؍ اور۸۶؍ کی عدم تعمیل ہوئی ہے۔اس نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا محض انہدام کا اختیار انہدام کو جواز فراہم کرتا ہے، یا ریاست کی، بطورحاکمذمہ داری، یہ ہے کہ بغیر کسی جائز عوامی مقصد کے رہائشی جگہ کو نہ گرایا جائے۔بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ آیا جرم کے فوراً بعد انہدامی کارروائی شروع کرناحکومتی اختیارات کا بے جا استعمال ہے۔ مزید برآں، اس نے غور کیا کہ ہائی کورٹ کو ریاستی قانونی اختیار اور آرٹیکل۱۴؍ اور۲۱؍ کے تحت مساوات اور زندگی کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کرنا چاہیے، اور کیا انہدام کا ’معقول خدشہ‘ کسی شہری کے لیے کورٹ کا رخ کرنے کی کافی وجہ ہے، نیز ایسے خدشے کی تصدیق کے لیے کم از کم معیار کیا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کیلئے اجازت ضروری نہیں‘‘
واضح رہے کہ یہ تبصرے فیض الدین اور دیگر کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران کیے گئے، جنہوں نے بتایا کہ ان کے رشتہ دارعفان خان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا، پوسکو ایکٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، اور اتر پردیش مذہبی تبدیلی کے خلاف قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔اگرچہ وہ خود ایف آئی آر میں ملزم نہیں ہیں، لیکن دعویداروں کا کہنا ہے کہ پولیس کی ملی بھگت سے کام کرنے والے ہجوم نے انہیں نشانہ بنایا۔انہوں نے کورٹ کو آگاہ کیا کہ ہمیرپور میں ان کی جائیدادوں، بشمول رہائشی مکان، تجارتی لاج اور آرا مل، کو گرانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے، اور لاج اور آرا مل کو حکام نے پہلے ہی سیل کر دیا ہے۔انہدامی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر، انہوں نے متوقع مسماری کو روکنے کے لیے کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی۔تاہم ریاستی حکومت نے ابتدائی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ پٹیشن قبل از وقت ہے اور دعویداروں کو انہیں جاری نوٹس کا جواب دینا چاہیے۔ حکومت نے زبانی یقین دہانی بھی کرائی کہ قانونی طریقہ کار کی پیروی اور دعویداروں کو سنے جانے کا موقع دیے بغیر کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔تاہم، بنچ نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کے باوجود ریاست میں انہدامی کارروائی جاری ہیں، اس لیے اس نے۲۱؍ جنوری کے اپنے آرڈر میں مرتب کیے گئے آئینی سوالات کو حل کرنا مناسب سمجھا۔دراصل ۲۰۲۴ء میں، سپریم کورٹ نے ایک عارضی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ جائیدادیں محض اس بنیاد پر نہ گری جائیں کہ ان کے مالکان یا رہائشی پر کسی جرم کا الزام ہے۔من مانے عمل کو روکنے کے لیے، کورٹ نے ہدایت کی کہ کسی بھی مسماری سے قبل جائیداد کے مالک یا قابض کو کم از کم۱۵؍ دنوں کا نوٹس دیا جانا چاہیے۔نوٹس میں واضح طور پر گرائے جانے والے ڈھانچے کی تفصیلات اور ایسے عمل کی وجوہات درج ہونی چاہئیں۔ اس میں ذاتی سماعت کی تاریخ بھی طے کی جانی چاہیے، تاکہ متاثرہ فریق کو متوقع مسماری کے خلاف احتجاج یا اپنا موقف واضح کرنے کا موقع مل سکے۔شفافیت کے مفاد میں، حکام کو نوٹس جاری کرنے پر مقامی کلکٹر یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ای میل کے ذریعے مطلع کرنا ضروری ہے، جس کے بعدآٹو رپلائی وصول ہو تاکہ تاریخ میں تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کے الزامات سے بچا جا سکے۔ اگر حتمی انہدامی آرڈر جاری کیا جاتا ہے، تو اس میں مالک یا قابض کی پیشیوں کو درج کرنا ہوگا، یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ انہدام ہی واحد قابل عمل حل ہے، اور یہ بتانا ہوگا کہ یہ عمل پورے ڈھانچے یا صرف کسی حصے سے متعلق ہے۔حتمی آرڈر جاری ہونے کے بعد بھی، سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ انہدام سے پہلے مزید۱۵؍ دن کی مہلت دی جانی چاہیے، تاکہ مالک یا قابض یا تو خود ڈھانچہ ہٹا سکے یا کسی مجاز عدالت میں اس کارروائی کے خلاف اپیل کر سکے۔ کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ انہدامی عمل کو ویڈیو گرافی کے ذریعے دستاویزی شکل دی جائے اور پہلے ایک معائنہ رپورٹ تیار کی جائے، جس کے بعد انہدامی کارروائی میں شامل اہلکاروں کی فہرست بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: مسلم دکاندار کے دفاع پر۲؍ ہندو شہریوں کے خلاف ایف آئی آر
مزید برآں، کورٹ نے ایسے معاملات کے لیے ایک مخصوص جانچ وضع کیا، جہاں گرائی جانے والی جائیداد میں کوئی ملزم رہتا ہو لیکن اسے میونسپل قوانین کی خلاف ورزی پر غیر قانونی تعمیر بھی قرار دیا گیا ہو۔ کورٹ نے کہا کہ اگر ایسی صرف ایک عمارت گرائی جاتی ہے جب کہ اسی طرح کی دیگر تعمیرات کو نہیں چھیڑا جاتا، تو اس سے اشارہ مل سکتا ہے کہ یہ عمل سزا کی نوعیت کا ہے نہ کہ میونسپل ضوابط کا نفاذ ۔ تاہم، سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود، کئی ریاستوں میں ’بلڈوزر انصاف‘ کے نام پر ناانصافی جاری ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اتر پردیش کے ایودھیا میں ایک پوسکو کورٹ نے گذشتہ ہفتے سماج وادی پارٹی کے لیڈرمعید خان کو۲۰۲۴ء کے گینگ ریپ کیس میں بری کر دیا، جبکہ ان کی گرفتاری کے بعد بلڈوزر کارروائی میں ان کی جائیدادوں کو گرایا جا چکا تھا، جو سزا کے طور پر بلڈوزر کارروائی کی ایک مثال ہے۔