Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل کی مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے حکم پر الٰہ آباد ہائی کورٹ برہم

Updated: March 14, 2026, 11:49 PM IST | Lucknow

اترپردیش کے ضلع سنبھل میں واقع مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے یوپی انتظامیہ کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر افسر نظم ونسق برقرار نہیں رکھ سکتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

The Allahabad High Court
الٰہ آباد ہائیکورٹ

اترپردیش کے ضلع سنبھل میں واقع مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے یوپی انتظامیہ کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر افسر نظم ونسق برقرار نہیں رکھ سکتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ عدالت نے ریاست کے فرائض پر زور دیتے ہوئے کہا کہ  اتر پردیش انتظامیہ ہر کمیونٹی کے اپنے مذہبی مقام پر پُرامن عبادت کرنے کا حق یقینی بنائے، خاص طور پر اگر یہ نجی ملکیت ہو۔
 جسٹس اتل شری دھر اور سدھارتھ نندن کی بنچ نے کہا کہ اگر ایس پی اور ضلع کلکٹر نظم ونسق برقرار رکھنے سے قاصر ہیں تو انہیں یا تو استعفیٰ دے دینا چاہئے یا اپنا  تبادلہ کہیں اور کروا لیناچاہئے بجائے اس کے کہ وہ عدالت سے راحت طلب کریں، اگر و ہ قانون کی تعمیل کروانے کے قابل نہیں ہیں۔ 
 عدالت نے یہ ریمارکس مناظر خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیئے۔ دوران سماعت درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ رمضان المبارک میں پلاٹ نمبر ۲۹۱؍ میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بیک وقت کثیر تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے نظم ونسق کامسئلہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ اس لئے مسجد میں مقررہ تعداد سے زیادہ لوگوں کو داخل ہونے نہ دیا جائے۔  درخواست گزار کے وکیل کے مطابق وہاں ایک مسجد واقع ہے اور مسجد میں آنے سے لوگوںکو روکا نہیں جا سکتا۔ نیز انتظامیہ کا یہ فیصلہ سرے سے عام مسلمانوں کے مسجد میں نماز پڑھنے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ 
  عدالت نے بھی انتظامیہ کی اس دلیل( نظم ونسق والی) کو مسترد کرتے ہوئے تلخ تبصرہ کیا۔عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کمیونٹی مقررہ مذہبی مقام پر پُرامن طریقے سے عبادت کرسکے اور اگر یہ نجی ملکیت ہے، جیسا کہ عدالت نے پہلے ہی کہا ہے تو پھر لوگوں کو ریاست سے کسی بھی طرح کی اجازت حاصل کئے بغیرعبادت کرنے کا حق ہے۔
   پولیس افسران کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ زیادہ بھیڑ ہونے سے حفاظتی انتظامات نہیں کئے جاسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر وہاں مقررہ تعداد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ حالانکہ عدالت نے اس دلیل کو یکسر مسترد کر دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال یہاں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ سنبھل میں ماہ رمضان کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) کی نماز سخت سیکوریٹی کے درمیان ادا کی گئی تھی۔ نماز کی ادائیگی کے دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ پورے شہر کی نگرانی سی سی ٹی وی کنٹرول روم سے کی گئی تھی۔ نماز کے دوران ملک، دنیا اور شہر میں امن و امان  کیلئے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر ڈھائی ہزار سے زائد لوگوں نے نماز ادا کی تھی۔ عدالت کے سخت تبصرے کے بعد دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی طرف سے کیا تیاریاں کی جاتی ہیں۔عام طور پر یوپی انتظامیہ عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کرنے کیلئے مشہور ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK