اپنے حکم کی ایک نقل لا کمیشن کو بھیجتے ہوئے عدالت نے ہندوستان کے سماجی تناظر بالخصوص ناخواندگی کی بنیاد پر پاکسو قانون میں ترمیم کے امکانات پر غور کرنے کیلئے بھی کہا۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 11:27 AM IST | Agency | New Delhi
اپنے حکم کی ایک نقل لا کمیشن کو بھیجتے ہوئے عدالت نے ہندوستان کے سماجی تناظر بالخصوص ناخواندگی کی بنیاد پر پاکسو قانون میں ترمیم کے امکانات پر غور کرنے کیلئے بھی کہا۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے نابالغ لڑکی کے ساتھ گھر سے فرار ہوکر شادی کرنے کے معاملے میں پاکسو قانون کے نامناسب استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کئی بار ناخواندگی اور غربت کے باعث ایسے معاملات پیش آتے ہیں۔ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو پر مشتمل ڈویژن بنچ نے باندہ کے ایک نوجوان کی حبس بیجا (ہیبئس کارپس) کی عرضی نمٹاتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اپنے حکم کی ایک نقل لا کمیشن کو بھیجتے ہوئے ہندوستانی سماجی تناظر میں پاکسو قانون میں ترمیم کے امکانات پر غور کرنے کو کہا ہے۔عرضی گزار نوجوان کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج تھا۔ وہ لڑکی کے ساتھ گھر سے فرار ہوکر رہنے لگا تھا۔ یکم ستمبر ۲۰۲۵ء کو دونوں نے شوہر اور بیوی کی حیثیت سے حلف نامہ بھی تیار کرایا تھا۔ لڑکی کے والد نے عدالت کو بتایا کہ ان کی بیٹی کی تاریخ پیدائش ۲۵؍ جولائی ۲۰۱۰ء ہے اور وہ نابالغ ہے۔ برآمدگی کے بعد لڑکی کو چائلڈ ہوم بھیج دیا گیا تھا، جہاں اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ بچے کی عمر ۲؍ ماہ سے زیادہ ہوچکی ہے۔
لڑکی کے والد کو اس بات پر اعتراض تھا کہ درخواست گزار اور لڑکی کے درمیان ہندو میرج ایکٹ کے مطابق سپنڈ رشتہ (خونی رشتہ) ہے، اسلئے ان کی شادی نہیں ہوسکتی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ محض شادی کے دعوے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس میں بچے کی پیدائش بھی شامل ہوچکی ہے۔لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ اس نے صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ ہندی کا اخبار نہیں پڑھ سکتی اور صرف دستخط کرنا جانتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون بناتے وقت اس حقیقت پر غور نہیں کیا گیا کہ ملک کی بڑی آبادی ناخواندہ یا نیم خواندہ ہے۔ ۱۵ سال کی عمر میں جسمانی اور جذباتی بلوغت کے ساتھ کسی کی جانب کشش محسوس کرنا ایک فطری بات ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست کو چاہیے کہ نابالغوں کو بالغ ہونے تک تعلیم اور روزگار سے متعلق ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ہم نے فارم -۶؍ میں تبدیلی کو منظور کیا ہے نہ مسترد‘‘
ہائی کورٹ نے لا کمیشن سے یہ بھی غور کرنے کو کہا کہ غیر معمولی معاملات میں خصوصی جج کو سزا طے کرنے کا صوابدیدی اختیار دیا جائے اور کمیونٹی سروس جیسی متبادل سزاؤں کی گنجائش پیدا کی جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لاعلمی میں قائم ہونے والے خاندانوں کو ۱۸؍ سال سے کم عمر افراد کے تحفظ کے نام پر توڑنے سے بچایا جاسکے۔عدالت نے ریکارڈ پر موجود دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ لڑکی کی عمر کے ثبوت کے طور پر صرف پانچویں جماعت کا ٹرانسفر سرٹیفکیٹ موجود ہے، جبکہ نگر پالیکا کا برتھ سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اوسیفیکیشن ٹیسٹ (ہڈیوں کی جانچ کے ذریعے عمر کا تعین کرنے کا عمل) میں لڑکی کی عمر تقریباً ۱۸ سال آئی۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے لڑکی کو بالغ مانتے ہوئے اسے اپنے شوہر کے ساتھ عدالت کے احاطے ہی سے جانے کی اجازت دے دی۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ اس کے حکم میں حقائق کے بارے میں کیے گئے تبصروں کا مقدمے کی سماعت کرنے والی ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
طلبہ لیڈر پر کارروائی، ہائی کورٹ برہم
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے راجدھانی کے حسین گنج تھانہ انچارج (ایس ایچ او) کو ہدایت دی کہ وہ وضاحت کریں کہ اسٹوڈنٹس لیڈر آشوتوش کمار پانڈے کے خلاف ایف آئی آر پر عدالت کی روک کے باوجود چارج شیٹ کیسے داخل کی گئی۔ پانڈے نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعہ یوپی سب انسپکٹر بھرتی امتحان ۲۰۲۵ء میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ جسٹس رجنیش کمار اور جسٹس ببیتا رانی پر مشتمل ڈویژ ن بنچ نے یہ حکم ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو مطلع کیے جانے کے بعد دیا کہ اس معاملے میں ۲۱ ؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے بھیج دی گئی تھی۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت ۲۲؍اکتوبر کو ہوگی۔