Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیراعلیٰ یوگی کو نماز سے تو اُن کےکابینی رفیق کو اذان سے پریشانی

Updated: May 19, 2026, 11:44 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پولرائزیشن کا کھیل شروع، یوگی کا دھمکی بھرا لہجہ، کہا’’سڑکوں پر نماز نہیں پڑھنے دیں گے،پیار سے مانیں تو ٹھیک، ورنہ دوسرا طریقہ اپنایا جائے گا‘‘

CM Yogi Has Once Again Tried To Protect His Vote Bank By Speaking About Hindus And Muslims.Photo:INN
وزیراعلیٰ یوگی نے ایک بار پھر ہندو مسلم کی بات کہہ کر اپنے ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تصویر:آئی این این
 یوپی میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہیں لیکن حکمراں جماعت کی جانب سے ابھی سے پولرائزیشن کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔ ایک طبقے کو خوش کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سڑکوں پر نماز  کے حوالے سے زہر افشانی کی ہے تو ان کے کابینی وزیر نے اذان کے تعلق سے بدزبانی کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا  کہ نماز پڑھنا ہے تو شفٹ میں پڑھیں، ہم انہیں سڑک پر نہیں پڑھنے دیں گے۔ کچھ اسی طرح ریاستی کابینی وزیر جئے ویرسنگھ نے اذان کے تعلق سے کہا کہ اس کی وجہ سے نیند میں خلل پڑتا ہے۔ ان دونوں بیانات نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ علمائے کرام  اور مذہبی تنظیموں نے ان بیانات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے انہیں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا قرار دیا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں بھی اس مسئلے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
یوپی کے وزیراعلیٰ نے لکھنؤ میں ایک مقامی اخبار کے ۷۸؍ویں یومِ تاسیس کے موقع پرمنعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جا سکتی کیونکہ سڑکیں عوامی آمد و رفت کیلئے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مقام پر زیادہ افراد ہوں تو نماز شفٹوں میں ادا کی جا سکتی ہے، لیکن سڑک بند کرکے مریضوں، ملازمین، مزدوروں اور عام شہریوں کی نقل و حرکت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ’’اگرپیار سے مانیں گے تو ٹھیک ہے، ورنہ حکومت دوسرا طریقہ بھی اپنانا جانتی ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے بریلی کے حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طاقت عوام پہلے بھی دیکھ چکے ہیں،اسلئے ریاست میں افراتفری برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر نہ تو ان سے کسی نے کانوڑیوں کے تعلق سے کوئی بات کی ، نہ ہی انہوں نے اس پر کچھ کہا۔
کچھ اسی طرح اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے کی خاطر ریاست کے محکمہ ثقافت و سیاحت کے کابینی وزیر ٹھاکرجئے ویر سنگھ نے اذان کے تعلق سے بدزبانی کی ہے۔فیروز آباد کے شکوہ آباد میںمنعقدہ تاجروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قانون و انتظام اور صوتی آلودگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بلند آواز میں اذان کی وجہ سے لوگوں کی نیند متاثر ہوتی تھی لیکن اب آواز کی حد مقرر کر دی گئی ہے اور قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی صوتی آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے مگر قانون کی پابندی سب کیلئے ضروری ہے۔
مذکورہ دونوں بیانات کے بعد علماء اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسلامک سینٹر آف انڈیا کے چیئرمین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے وزیرکے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اذان اسلام کا ایک مقدس شعار ہے اور اس کے خلاف غیر ذمہ دارانہ تبصرہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہر مذہب اور اس کی مقدس علامات کے احترام کا درس دیتا ہے، اسلئے  ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو بھی مذہبی معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ٹھاکر جئے ویر سنگھ کو فوری طور پر اپنا بیان واپس لے کر مسلمانوں سے معافی مانگناچاہئے۔اسی سلسلے میں لکھنؤ کے قاضی شہر مفتی ابو العرفان محمد نعیم الحلیم فرنگی محلی نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ حکمراں کسی ایک مذہب یا طبقے کے نہیں بلکہ پورے صوبے کے نمائندہ  ہوتے ہیں، اسلئے ان کی ذمہ داری ہے کہ دیگر مذاہب کی طرح اسلام کے ماننے والوں کو اپنی عبادات آزادی کے ساتھ ادا کرنے کیلئے ساز گار ماحول فراہم کریں، نہ کہ مشکلات پیدا کریں۔
 
 
شیعہ مذہبی رہنما مولانا یعسوب عباس نے بھی اذان سے متعلق متنازع بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اذان اور مندروں کے بھجن دونوں محبت، روحانیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہیں اوراگر اذان پر اعتراض کیا جاتا ہے تو پھر مندروں میں ہونے والے بھجن، شلوک اور گھنٹیوں کی آواز پر بھی یکساں رائے ہونی چاہئے۔انہوں نےبیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی معاملات میں سیاست کے بجائے حساسیت اور سنجیدگی کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے بیانات غلط پیغام دیتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔
 
 
راشٹروادی کانگریس پارٹی کے اقلیتی شعبہ کے جنرل سیکریٹری  محمد ناصر نےبھی ان بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںجہاں ایک طرف اذان کی آواز گونجتی ہے تو وہیں مندروں سے بھجن اور گھنٹیوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ اگر مسلمان عوامی مقامات پر نماز ادا کرتے ہیں تو ہندو مذہب کے ماننے والے بھی جاگرن، بھنڈارہ، کانوڑ یاترا، رام نومی، ستسنگ اوردیگر مواقع  پر عوامی مقامات کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کی بجائے محبت اور رواداری کے رنگوں سے آگے بڑھنے دینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK