گھر میں نماز باجماعت پر پابندی کے خلاف مذہبی آزادی کے تعلق سے گزشتہ چندن دنوں میں راحت بخش فیصلے سنانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے مقبول جج، جسٹس اتل سری دھرن کا روسٹر تبدیل کردیا گیا ہے۔
جسٹس اتل سری دھرن- تصویر:آئی این این
گھر میں نماز باجماعت پر پابندی کے خلاف مذہبی آزادی کے تعلق سے گزشتہ چندن دنوں میں راحت بخش فیصلے سنانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے مقبول جج، جسٹس اتل سری دھرن کا روسٹر تبدیل کردیا گیا ہے۔ اب وہ صرف فیملی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں اور والدین و بزرگوں کی کفالت سے متعلق مسائل پر شنوائی کریں گے۔
بریلی کے ایک مکان میں باجماعت نماز کے معاملے کی سماعت منگل کو ان کی جگہ جسٹس سرل شریواستو اور جسٹس گریما پرساد کی بنچ نے کی۔ گزشتہ سماعت میں جسٹس دھرن نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان کو عدالت میں طلب کر لیا تھا۔ رمضان میں سنبھل کی مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے پر بھی انہوں نے برہمی کااظہار کیاتھا اور نظم و نسق برقرار نہ رکھ پانے پر سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان سے کہاتھا کہ اگر وہ اپنا کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دے دیں۔ ان کی بنچ سے بڑی امیدیں وابستہ ہوگئی تھیں اور بریلی میں گھرمیں نماز کے خلاف درج کئے گئے مقدمے میں اہم پیش رفت کی امید کی جارہی تھی۔ بہرحال اب وہ جسٹس وویک سرن کے ساتھ ۲۰۲۱ء کی فیملی کورٹ سے متعلق اپیلوں کی سماعت کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ والدین اور بزرگ شہریوں کی کفالت و بہبود کے قانون سے متعلق معاملات بھی سنیں گے۔
تفصیلات کے مطابق، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتہ بنچوں کی تشکیل /روسٹر سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جو پیر سے نافذ ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس ارون بھنسالی کے حکم پر ۱۹؍ مارچ کو جاری کئے گئے انتظامی حکم میں متعدد ڈویژن اور سنگل جج کی بنچوں میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نیا نوٹیفکیشن ۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء سے نافذ سابقہ روسٹر کی جگہ لے گا۔نئے روسٹر کے مطابق جسٹس اتل سری دھرن جسٹس وویک سرن کے ساتھ مل کرسیاسی پنشن، انسانی حقوق ایکٹ-۱۹۹۳ء اور یوپی کوآپریٹیو سوسائٹیز ایکٹ سے متعلق ’رِٹ سی‘ درخواستوں کی بھی سماعت کریں گے ۔ اس سے قبل ان کی قیادت والی بنچ انٹلیکچول پراپرٹی اور دیگر غیر درج سول رِٹ معاملات دیکھ رہی تھی۔ اب وہ سول رِٹ معاملات جو کوڈ بک میں درج نہیں ہیں، انہیں جسٹس سرل شریواستو اور جسٹس گریما پرساد کی بنچ سنے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جسٹس سری دھرن کو جس قسم کے مقدمات سونپے گئے ہیں انہیں پہلے جسٹس ارندم سنہا کی بنچ دیکھ رہی تھی۔