گوونڈی میں اجازت کےباوجود اردو اسکول شروع کرنے میں لاپروائی کا الزام

Updated: December 21, 2021, 8:33 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

اردو اسکول میں طلبہ کی بڑھتی تعداد کےسبب دوسرے اسکول میں خالی پڑے کمروں میں طلبہ کوبیٹھنےکی اجازت۲۰۱۷ء میں دی گئی لیکن انتظامات اب تک نہیں کئے گئے

Webhomrathi school in which rooms are vacant but seating for Urdu medium children is not being arranged.
ویبھومراٹھی اسکول جس میں کمرے خالی ہیںلیکن اردو میڈیم کے بچوں کے بیٹھنے کا انتظام نہیں کیا جارہا ہے

 :یہاں گوونڈی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میںواقع بی ایم سی اردو اسکولوں  سے ۸؍ ویںجماعت میں کامیاب ہونے والے طلبا علاقے میںکوئی سیکنڈری اسکول نہ ہونےکی وجہ سےبہت سارے طلبہ تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن  جو اس سلسلہ کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں انہیں کافی دور یعنی چمبوراسٹیشن کے قریب اسٹیشن چمبور میونسپل سیکنڈری اسکول میں جانا پڑتاہے۔میونسپل کارپوریشن کے اردو پرائمری اسکولوں کی بیٹ آفیسر عارفہ شیخ کی محنت اور جہدوجہد کے بعد گوونڈی کے ویبھومیونسپل مراٹھی اسکول کی خالی بلڈنگ میں کئی سال پہلےاسٹیشن چمبور اردو سیکنڈری اسکول کی بھاگ شالہ (برانچ)کی اجازت دی گئی تھی۔ کئی سال بعد بھی اب تک اس میں نویں اور دسویں جماعت کی تعلیم شروع نہیںہوسکی۔اس کی وجہ سے میونسپل اسکولوں میں پڑھنے  والے غریب مسلم بچوں کا بہت بڑےپیمانے پر تعلیمی نقصان ہورہا ہے ۔ 
 گوونڈی میں واقع میونسپل کارپوریشن اردو اسکول کے ایک ٹیچر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایاکہ گوونڈی اور اس کے آس پاس کے علاقوںمیں لاکھوںکی آبادی کے درمیان کوئی بی ایم سی اردو سیکنڈری اسکول نہ ہونے کی وجہ سے ۸؍ویں جماعت تک بی ایم سی پرائمری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا اور طالبات کافی دورکے بی ایم سی سیکنڈری اسکولوں( نویں اوردسویںجماعت)میںتعلیم حاصل کرنے کیلئے جانے پر مجبور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیشن چمبورمیونسپل اردو سیکنڈری اسکول میں  بچوں کی تعداد کافی بڑھ جاتی ہے ۔اسٹیشن چمبوربی ایم سی اردو اسکول میں پہلی سےآٹھویں جماعت تک ۷۵۰؍بچےپڑھتے ہیں جبکہ امسال بھی نویں میں۴۳۰؍ اور دسویں میں ۳۴۰؍طلبہ زیرتعلیم ہیں۔اس کے باوجود اسٹیشن چمبور اسکول میں ہر سال کم ازکم ۵۰؍ سے۷۰؍ طلبہ کا داخلہ اس لئے نہیں ہوپاتاکہ اسکول میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیںہوتی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ داخلہ نہ ملنے پر زیادہ تر بچے پڑھائی چھوڑ دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اس سلسلے میں نمائندہ انقلاب نے اردو سیکنڈری اسکول کی بیٹ آفیسر عارفہ شیخ سے بات کی تو انہوںنے کہاکہ ہماری تجویز پر ۲۰۱۷ء میں ویبھو مراٹھی اسکول میںاسٹیشن چمبور  اردو سیکنڈری اسکول کی برانچ شروع کرنےکی اجازت دی گئی تھی لیکن  طلبہ کے بیٹھنے کیلئے سہولت دستیاب نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے اب تک ویبھو اسکول میں اردو سیکنڈری اسکول شروع نہیں ہوسکا۔
 ویبھو مراٹھی اسکول اور بلڈنگ کی انچارج اسنیہا وشواس آڑاؤ سے بات چیت کی گئی تو انھوں نے کہا کہ ۲۰۱۸ء میں مجھےپتہ چلا تھا کہ اس اسکول کے خالی کمروںمیںاسٹیشن چمبوراردو سیکنڈری اسکول کی بھاگ شالہ شروع ہونے والی ہےلیکن اس کے بعد پھر شاید کسی نےاس بارے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جس کی وجہ سے ڈپارٹمنٹ نے بھی مجھ سے نہیں پوچھا تھا۔ کچھ دنوں پہلے میرے پاس اس سلسلے میں لیٹر آیا تھا اورمیں نے اس پر اپنا ریمارک لگاکر بھیج دیا ہے کہ ویبھو مراٹھی اسکول کی عمارت میں خالی پڑے کمروں میں اردو سیکنڈری اسکول شروع کی جاسکتی ہے ۔ 
 اس ضمن میں اسٹیشن چمبوراردو سیکنڈری اسکول کےپرنسپل صلاح الدین کاکہناہےکہ ہمارے اسکول میںبچوں کی تعدادبڑھتی جارہی ہےجس کی وجہ سے ویبھومراٹھی اسکول کی عمارت میںبھاگ شالہ اسکول شروع کرنا اچھی بات ہے لیکن میری معلومات کے مطابق اب تک اس میں بچوں کے بیٹھے وغیرہ کا انتظام نہیں ہے ۔ برانچ شروع کرنے پر ٹیچروں کی بھی ضرورت پڑے گی اور ابھی تک ہمارے اسکول میں ٹیچروں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ یہاں سے انھیں ٹرانسفر کیا جاسکے ۔ 
 بی ایم سی میونسپل اردو اسکولوں کی بیٹ آفیسر نسرین آرزو سے بات چیت کی گئی تو انھوں نے بھاگ شالہ شروع نہ ہونے کی مختلف وجوہات بیان کیں اور کہا کہ ہم بہت جلد اس کے بارے میںتفصیلات حاصل کریں گے اوربی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے بچوں کےبیٹھنے کے انتظامات کرنے کے علاوہ ٹیچروں کا بھی بندوبست کرکے بھاگ شالہ شروع کیا جائے گا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK