یوتھ کانگریس کے صد رنےدعویٰ کیا کہ اجیت دادا کی موت کے دن سرکاری سوگ کے اعلان کے باوجود یہ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 10:51 PM IST | Mumbai
یوتھ کانگریس کے صد رنےدعویٰ کیا کہ اجیت دادا کی موت کے دن سرکاری سوگ کے اعلان کے باوجود یہ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے
جس وقت نائب وزیر اعلیٰ اجیت داداپوارکی ناگہانی موت سے ریاست میں سرکاری سوگ کا ماحول تھا، اسی دوران اقلیتی محکمہ کی جانب سے۷۵؍ تعلیمی اداروں(غیر اردو اسکولوں) کو عجلت میں اقلیتی درجہ دئیےجانے کا دعویٰ کیاگیا ہے۔الزام لگایا گیا کہ اجیت پوار کی حادثاتی موت کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ان سرٹیفکیٹس کا اجرا عمل میں آیا۔ حالانکہ گزشتہ سال اگست سے اقلیتی درجہ دینے کے سرٹیفکیٹس پر پابندی عائد تھی، لیکن اجیت پوار کے انتقال کے بعد اس پابندی کو نظر انداز کرکے مبینہ طور پر وزارت سے خفیہ طور پر سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔اے بی پی ماجھا کی رپورٹ کے مطابق الزام لگایا گیا کہ پہلا سرٹیفکیٹ ۲۸؍جنوری کو، یعنی اجیت پوار کے حادثے والے دن ہی دوپہر ۳؍ بج کر۹؍منٹ پر جاری کیا گیا۔ ریاست میں سرکاری سوگ کے اعلان کے باوجود وزارت میں یہ عمل کس کے حکم پر اور کیسے انجام دیا گیا، اس پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
۴؍دنوں میں ۷۵؍سرٹیفکیٹس کی تقسیم
- شری ماتا کنیکا سیوا سنستھا۲۸؍ جنوری کو دوپہر۰۹:۳؍ بجے سرٹیفکیٹ
- سیواداس مہاراج شکشن پرچارک منڈل، ایوت محل ۲۸؍ جنوری کو ہی سرٹیفکیٹ
-۲۸؍جنوری کو مجموعی طور پر ۷؍ اداروں کو سرٹیفکیٹس
-۲۹؍اور ۳۰؍ جنوری کو بڑی تعلیمی تنظیموں کو سرٹیفکیٹس کی تقسیم
-۲؍فروری کو بھی کئی اسکولوں کو اقلیتی درجہ دیا گیا
- اگست سے ایک بھی سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوا تھا، لیکن صرف چار دنوں میں۷۵؍ سرٹیفکیٹس جاری
- کئی اسکولوں کو سرکاری اوقات کار کے بعد شام ۴۵:۶؍ اور۵۸:۶؍ بجے سرٹیفکیٹس دیے گئے
-۷۵؍ میں سے ۲۵؍ اسکول پوددار انٹرنیشنل کے ہیں، جنہیں ۲۹؍جنوری کو ایک ہی دن درجہ دیاگیا
- سینٹ زیویئرز کے۵؍ اسکولوں کو اقلیتی درجہ
- سوامی شانتی پرکاش اور دیو پرکاش اداروں کے۴؍ اسکولوں کو سرٹیفکیٹس
اے بی پی ماجھا کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سبھی تعلیمی ادارے غیر اردو ہیں۔ذرائع کے مطابق، مانک راؤ کوکاٹے، دتاتریہ بھرنے اور اجیت پوار نے اس سے قبل یہ سرٹیفکیٹس روک رکھے تھے۔ تاہم ان کے انتقال کے بعد اچانک یہ عمل شروع کیے جانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
مالی بے ضابطگیوں کا الزام
اجیت پوار کے انتقال کے بعد عجلت میں سرٹیفکیٹس جاری کیے جانے پریوتھ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اکشے جین نے الزام لگایا ہے کہ اس کے پیچھے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے اقلیتی محکمہ کے اس مبینہ گھپلے کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی ہے۔
سی آئی ڈی جانچ اور مکوکا کے تحت کارروائی کا مطالبہ
ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے اس معاملے پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ’’۷۵؍تعلیمی اداروں کو اقلیتی درجہ دینا انتہائی چونکا دینے والا ہے۔ اس معاملے میں ملوث افسران کیخلا ف سی آئی ڈی کے ذریعے تحقیقات کر کے مکوکا کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔‘‘
۸؍ہزار ۵۰۰؍ اقلیتی اسکولوں کی جانچ ہوگی
پیارے خان نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ اقلیتی درجہ دینے کا عمل پیسہ کمانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ریاست میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد اقلیتی اسکولوں کی گہرائی سے جانچ کی جائے گی۔ اسی دوران اکولہ ضلع کے سلیم زکریا اردو مڈل اسکول، پاتور اور سید غفار سید حسین مڈل اسکول، پاتور میں سنگین بے ضابطگیاں پائے جانے کے بعد ان کا اقلیتی درجہ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس معاملے نے ریاستی انتظامیہ میں ہلچل مچا دی ہے، اور تحقیقات میں مزید چونکا دینے والے انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔