• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل یا مودی؟ پسندیدہ لیڈر کون؟ تاپسی پنو کے جواب پر تنازع

Updated: February 16, 2026, 9:53 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنو نے ٹی وی نائن کے ایک انٹرویو کے دوران وزیرِاعظم نریندر مودی کو اپنا ’’پسندیدہ لیڈر‘‘ قرار دے کر تنازع کھڑا کر دیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے مقابلے میں مودی کا نام لیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، ’’مجھے بھارت میں ہی رہنا ہے‘‘، جس پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔

Taapsee Pannu. Photo: INN
تاپسی پنو۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنو ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔ ٹی وی۹؍ بھارت ورش کے ایک ریپڈ فائر سیشن کے دوران انہوں نے وزیرِاعظم نریندر مودی کو اپنا ’’پسندیدہ لیڈر‘‘ قرار دیا، جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا نام لینے سے گریز کیا۔ انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ نریندر مودی اور راہل گاندھی میں سے کس کو ترجیح دیں گی، تو تاپسی نے فوری طور پر مودی کا نام لیا۔ تصویریں اسکرین پر آتے ہی وہ مودی کی تصویر کے پاس جاتی ہیں، اسے چھوکر ’’پرنام‘‘ کرتی ہیں اور پھر مسکراتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہتی ہیں، ’’مجھے بھارت میں ہی رہنا ہے۔‘‘ ان کا یہ جملہ تیزی سے وائرل ہو گیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر بحث کا سبب بن گیا۔ سوشل میڈیا پر ردِعمل ملا جلا رہا۔ بعض صارفین نے اسے ایک ہلکے پھلکے ریپڈ فائر سوال کا مزاحیہ جواب قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سیاسی اشارہ سمجھا۔ کچھ ناقدین نے کہا کہ ایک عوامی شخصیت کو اس طرح کے بیانات دیتے وقت محتاط رہنا چاہیے، خاص طور پر جب ملک کا سیاسی ماحول حساس ہو۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by National Herald (@nationalherald_nh)

خیال رہے کہ تاپسی پنو ماضی میں سماجی اور سیاسی موضوعات پر اپنی رائے کے اظہار کے لیے جانی جاتی رہی ہیں۔ ان کی فلمیں اکثر سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں اور وہ کئی مواقع پر خواتین کے حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے موضوعات پر بول چکی ہیں۔ اسی لیے ان کے حالیہ بیان کو بھی مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ٹی وی ۹؍  بھارت ورش کا یہ انٹرویو ایک ریپڈ فائر سوال و جواب پر مبنی تھا، جس میں مہمان سے فوری ردِعمل کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسے فارمیٹ میں اکثر جوابات سنجیدہ کم اور تفریحی زیادہ ہوتے ہیں، تاہم بعض اوقات یہی جملے تنازع کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مشہور شخصیات کے بیانات فوری طور پر وائرل ہو جاتے ہیں اور انہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریپڈ فائر جیسے فارمیٹس میں دیے گئے مختصر جوابات بھی بڑے مباحث کو جنم دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رنبیر کپور نے سنجے لیلا بھنسالی کی تعریف کی،’’لو اینڈ وار‘‘ کی ریلیز تاریخ بتائی

تاپسی کی جانب سے اس بیان پر اب تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ تاہم ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ اس تبصرے کو ہلکے انداز میں لیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ ایک تفریحی انٹرویو کا حصہ تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی شخصیات کے ناموں سے جڑا ہر بیان فوری طور پر عوامی بحث کا حصہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ کسی معروف فلمی ستارے کی جانب سے دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK