کہا کہ جس ساورکر نے اپنی کتاب ’سہا سونیری پانے‘ میںشیواجی مہاراج کی توہین کی تھی وہ ساورکر بی جے پی کو کیسے قابل قبول ہے؟
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 10:53 PM IST | Mumbai
کہا کہ جس ساورکر نے اپنی کتاب ’سہا سونیری پانے‘ میںشیواجی مہاراج کی توہین کی تھی وہ ساورکر بی جے پی کو کیسے قابل قبول ہے؟
چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کا بے بنیاد الزام عائد کئے جانےپر مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے باوجود سپکال ٹیپوسلطان کے متعلق دئیے گئے اپنے بیان پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی لیڈران سیاسی فائدے کیلئے تنازع پیدا کررہے ہیں۔ سپکال کا کہنا ہے کہ میں نے شیواجی مہاراج کی توہین نہیں کی ہے، میں نے یہ کہا کہ اپنے اپنے دور میں دوعظیم شخصیات ہو گزری ہیں، پھر بھی بی جے پی والے ہنگامہ کررہے ہیں، و ہ ونائک دامودرساورکر کے خلاف کچھ کیوں نہیں کہتے جنہوں نے اپنی کتاب’’سہا سونیری پانے‘‘ میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کی تھی۔
’’ بی جے پی کو بے نقاب کرنے کا کام بند نہیں کروں گا‘‘
ہرش وردھن سپکال نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ وہ اڈانی امبانی اور امریکہ کے مفادات کی سیاست کرنے والی اور آئین کو بدلنے کی کوشش کرنے والی بی جے پی کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔ سپکال نے کہا کہ بی جے پی کے بعض اراکین اسمبلی اور لیڈروں نے ان کی زبان کاٹ کر لانے والے کو انعام دینے کا اعلان کیا ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان کی زبان کاٹنے سے ہندوستانی کسانوں کو امریکہ سے ہونے والی درآمدات سے تحفظ ملنے والا ہے، نامنصفانہ تجارتی معاہدہ منسوخ ہونے والا ہے، کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملنے والی ہے، وہ قرض سے آزاد ہونے والے ہیں، ملک میں ہندو مسلم نفرت کی سیاست بند ہونے والی ہے اور چین کے قبضے میں گیا علاقہ واپس ملنے والا ہے تو ان کی زبان ضرور کاٹ لی جائے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا، اس لیے اصل سوالات سے توجہ ہٹانے کیلئے ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کہی۔ مہاراج کی عظمت اور ان کی خدمات ناقابلِ تردید ہیں، اس پر کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ لیکن بی جے پی نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور مہاراشٹر میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی،اس سازش کو عوام کو سمجھنا چاہیے۔
’’ٹیپو سلطان کی تصویر آئین میں موجود ہے‘‘
ہرش وردھن سپکال نے یہ بھی کہا کہ ملک کے آئین کے باب۱۶؍ میں ٹیپو سلطان اور جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی تصاویر موجود ہیں۔ جس شخصیت کی تصویر آئین میں ہے، اسی کے حوالے سے انہوں نے بات کی۔ آئین میں کئی عظیم شخصیات کی تصاویر شامل ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی، ٹیپو سلطان کے خلاف بولے گی ہی، کیونکہ وہ آئین کو بدلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے تو بی جے پی نے بھی اپنی مہم میں ٹیپو سلطان کی تصویر استعمال کی تھی۔ ’آبزرور‘ کے ایڈیٹر ملکانی نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں ایک مکمل باب ٹیپو سلطان پر ہے، جبکہ اس کتاب میں چھترپتی شیواجی مہاراج کا ذکر تک نہیں کیا گیا ہے۔
’’ کیا بی جےپی ساورکر کے خلاف احتجاج کرے گی؟‘‘
سپکال نے دعویٰ کیا کہ ونائک دامودر ساورکر کی کتاب’’سہا سونیری پانے‘‘ میں کئی غلط باتیں لکھی گئی ہیں اور اس میں چھترپتی شیواجی مہاراج پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ پھر ایسے ویر ساورکر بی جے پی کو کیسے قابلِ قبول ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیپو سلطان کے ورثاء بی جے پی میں شامل ہو جائیں تو انہیں بڑے عہدے دیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج بے مثال تھے اور رعایا کے راجہ تھے۔ سپکال نے اے بی پی ماجھا کو دئیے گئے انٹرویو میں بی جے پی سے سوال کیا کہ جو ساورکر چھترپتی شیواجی مہاراج کی شرافت کو’خرابی ‘ قرار دیتے ہیں، وہ ساورکر بی جے پی کو کیسے قابلِ قبول ہیں؟ سپکال نے دعویٰ کیا کہ ساورکر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے’’سوراج تو قائم ہونا ہی تھا، لیکن جیسے کوا بیٹھنے اور لکڑی ٹوٹنے کا ایک وقت آتا ہے، اسی طرح شیواجی مہاراج آئے۔‘‘سپکال نے کہا کہ بی جے پی نے احتجاج کے دوران ان کی تصویر جلائی، لیکن اسکے بجائے ویر ساورکر کی کتاب ’’سہا سونیری پانے‘‘ کو جلانا چاہیے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں چھترپتی شیواجی مہاراج کا ماؤلا (پیروکار) ہوں۔ میں ان باتوں سے نہیں ڈروں گا۔ شیواجی مہاراج ہماری شناخت ہیں اور آئین ہمارا آئیڈیل ہے۔‘‘