• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ: ’محمد‘ دیپک سے یکجہتی، امریکہ میں مقیم سبیر بھاٹیا نے جم کی ممبرشپ لی

Updated: February 16, 2026, 9:53 PM IST | Kotdwar

امریکہ میں مقیم ہاٹ میل کے شریک بانی سبیر بھاٹیا نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے ’محمد‘ دیپک کے جم کی ممبر شپ خریدی ہے۔ واضح رہے کہ دیپک کو ایک معمر مسلم دکاندار کی حمایت پر مبینہ معاشی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء، سماجی کارکنان اور عوامی شخصیات بھی ان کی مدد کیلئے آگے آئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں پیش آئے ایک واقعے نے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے، اور اب عالمی ٹیکنالوجی شخصیت سبیر بھاٹیا بھی اس معاملے میں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کر چکے ہیں۔ ۱۵؍  فروری ۲۰۲۶ء کو ایکس پر انہوں نے نہ صرف دیپک کے جم کی سالانہ رکنیت لینے کا ذکر کیا بلکہ لوگوں سے کہا کہ آپ جس پر یقین رکھتے ہیں، اپنا پیسہ وہاں لگائیں۔ یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے جب کوٹ دوار میں دیپک کمار نامی جم مالک کو مبینہ معاشی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق ۲۶؍ جنوری کو دیپک کمار بجرنگ دل کے کچھ ارکان سے الجھ گئے تھے، جو ایک ۷۰؍ سالہ معمر مسلم دکاندار پر اپنی دکان کے نام سے لفظ ’’بابا‘‘ ہٹانے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ دیپک نے دکاندار کی حمایت میں خود کو ’’محمد دیپک‘‘ کے طور پر متعارف کرایا اور مطالبے پر سخت اعتراض کیا۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس کے بعد ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

کوٹ دوار کے بدری ناتھ روڈ پر واقع ان کے جیم ’’ہلک جم‘‘ کے بائیکاٹ کی اپیلیں کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق، واقعے سے قبل جم کے تقریباً ۱۵۰؍ ممبران تھے، لیکن بعد میں یہ تعداد کم ہو کر صرف ۱۵؍  رہ گئی۔ اس کمی نے دیپک کی مالی حالت کو شدید متاثر کیا ہے۔ وہ جم کے لیے ماہانہ ۴۰؍ ہزار روپے کرایہ اور ۱۶؍ ہزار روپے ہوم لون کی قسط ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔اس صورتحال میں سپریم کورٹ کے ۱۵؍ سینئر وکلاء نے دیپک کمار کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے ۱۰۔۱۰؍ ہزار روپے ادا کر کے جم کی سالہ رکنیت حاصل کی۔ اس مہم کی تحریک جان بریٹاس سے ملی، جو سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور اس سے قبل جم کا دورہ کر کے رکنیت لے چکے تھے۔
قانونی امداد بھی اس حمایت کا حصہ بنی۔ وکلاء کے گروپ نے دیپک کو کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی میں مفت نمائندگی فراہم کرنے کا عہد کیا، جبکہ ۲۰؍ سے زائد وکلاء اس پرو بونو مہم میں شامل ہو گئے۔ سماجی و ثقافتی حلقوں سے بھی حمایت سامنے آئی۔ بالی ووڈ اداکارہ سورا بھاسکر اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دیپک کے جم کی رکنیت خرید کر ان کا ساتھ دیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے جم کی اکاؤنٹ تفصیلات طلب کر کے مالی مدد کی پیشکش کی۔ جے پور کے سماجی کارکن اوی ڈانڈیا نے اعلان کیا کہ وہ پہلے ۱۰۰؍ درخواست گزاروں کی ایک ماہ کی فیس خود ادا کریں گے۔ کچھ حامیوں نے دیپک کو آن لائن فٹنس سیشن شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا، تاکہ وہ ڈجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آمدنی بحال کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنیوا مذاکرات سے قبل ایران کا امریکہ سےآزادانہ مذاکرات پر زور، ایرانی چیف آف اسٹاف کا ٹرمپ کو انتباہ

ایسے ماحول میں سبیر بھاٹیا کا پیغام ایک علامتی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ہاٹ میل کے شریک بانی کے طور پر عالمی شہرت رکھنے والی شخصیت کے اس بیان کو یکجہتی اور شہری آزادی کے پیغام کے طور پر دیکھا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک مقامی تنازع بلکہ اظہارِ رائے، مذہبی ہم آہنگی اور شہری حقوق جیسے بڑے موضوعات سے جڑا ہوا ہے۔ دیپک کمار کے معاملے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ معاشرتی اختلافات کے بیچ شہری یکجہتی کیسے قائم رکھی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK