• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رفح کراسنگ: اسرائیلی پابندیاں، ۲۰؍ ہزار سے زائد فلسطینی مریض امداد کے منتظر

Updated: February 16, 2026, 9:53 PM IST | Rafah

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ۲۰؍ ہزار سے زیادہ بیمار اور زخمی فلسطینی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کے منتظر ہیں، مگر رفح کراسنگ پر سخت اسرائیلی پابندیوں کے باعث انخلا انتہائی محدود ہے۔ وزارت نے خبردار کیا ہے کہ طبی انخلا میں تاخیر ہزاروں جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ میں فلسطینی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ۲۰؍ ہزار سے زائد بیمار اور زخمی افراد بیرونِ ملک علاج کے منتظر ہیں، جبکہ مصر کے ساتھ واقع رفح کراسنگ انتہائی محدود شرائط کے تحت کام کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق، موجودہ صورتحال انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اتوار کو جاری بیان میں وزارت نے کہا کہ وہ رفح کراسنگ کے جزوی اور محدود آپریشن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ غزہ میں صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسرائیل نے مئی ۲۰۲۴ء میں کراسنگ کے فلسطینی حصے پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد ۲؍فروری کو اسے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا، تاہم سخت پابندیوں کے تحت۔ وزارت کے مطابق، سفری فہرستوں میں رجسٹرڈ مریضوں میں کینسر، دل کے امراض اور گردے کی ناکامی جیسے سنگین امراض میں مبتلا افراد شامل ہیں۔ متعدد زخمی ایسے بھی ہیں جنہیں جدید جراحی علاج کی ضرورت ہے، مگر ناکہ بندی اور طبی سہولیات کی تباہی کے باعث یہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔

یہ بھی پڑھئے: خاموش رہنا غیرجانبداری نہیں ہے: فرانسیسی نژاد فلسطینی اداکارہ ہیام عباس

اگرچہ کراسنگ کو باضابطہ طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے، مگر بیرونِ ملک جانے کی اجازت پانے والوں کی تعداد محدود ہے، جو موجودہ طبی تباہی کے حجم کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ وزارت نے ان افراد کی ’’دردناک گواہیوں‘‘ کا بھی ذکر کیا جو علاج کے لیے باہر جانے میں کامیاب ہوئے مگر انہیں سفر کے دوران سخت پابندیوں اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی جسمانی اور نفسیاتی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ ۵؍ فروری کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا کہ کچھ واپس آنے والوں نے شکایت کی کہ انہیں اسرائیلی فوجی چوکیوں پر لے جا کر ہتھکڑیاں لگائی گئیں، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور سامان ضبط کیا گیا۔ اس حوالے سے دو اسرائیلی انسانی حقوق تنظیموں عدالہ اور گریشا نے رفح کے راستے واپسی پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسی پالیسیاں جبری نقل مکانی کے مترادف ہو سکتی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ محدود طریقہ کار، مسافروں کی کم تعداد اور طبی انخلا میں سست روی ہزاروں جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ وزارت نے مطالبہ کیا کہ رفح کراسنگ کو مستقل اور باقاعدگی سے کھولا جائے تاکہ مریض بغیر کسی تاخیر کے علاج کے لیے سفر کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنیوا مذاکرات سے قبل ایران کا امریکہ سےآزادانہ مذاکرات پر زور، ایرانی چیف آف اسٹاف کا ٹرمپ کو انتباہ

نیم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۸۰؍ ہزار فلسطینیوں نے غزہ واپسی کے لیے اندراج کرایا ہے، جو بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اپنے علاقوں میں واپس جانے کے عزم کا اظہار ہے۔ جنگ سے قبل، غزہ کی وزارتِ داخلہ اور مصری حکام کے تحت روزانہ سیکڑوں افراد بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے رفح کراسنگ سے دونوں سمتوں میں سفر کرتے تھے۔ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیل کو ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کے بعد کراسنگ مکمل طور پر کھولنی تھی، مگر فلسطینی حکام کے مطابق یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو شروع ہونے والے تنازعے کے بعد جنگ بندی نے دو سالہ لڑائی کو ختم کیا، مگر اس کے باوجود حملوں کے واقعات جاری رہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق اس تنازعے میں ۷۲؍ ہزار سے زائد افراد شہید اور ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔ اقوام متحدہ نے تخمینہ لگایا ہے کہ تعمیرِ نو کی لاگت تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK