Inquilab Logo Happiest Places to Work

زیر زمین پانی کی پائپ لائنوں سے بڑے پیمانے پر پانی کی چوری کا الزام

Updated: April 13, 2026, 4:56 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بور ویل بنانے والوں کیخلاف شکایت کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور ایف آئی آر درج نہ کرنے پر سماجی کارکن کا جلد ہی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شہر اور مضافات میں پانی کی چوری اوراس کے سبب شہریوں کوہونے والی پانی کی قلت سے متعلق شہر کے ایک کارکن نے نہ صرف ٹینکر مافیا اور شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی بور ویل بنا کر پانی کی چوری کرنے اور بڑے پیمانے پر پانی فروخت کرنے کا کاروبار کرنے کا الزام لگایا ہے بلکہ اس سلسلےمیں شہری انتظامیہ کے متعلقہ محکموں کو دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے کئی شکایت بھی کی ہے۔ وہیں متعلقہ محکمہ ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بورویل بنا کر پانی چوری کئے جانے اور فروخت کئے جانے کا اعتراف تو کررہا ہے لیکن متعلقہ گینگ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف نہ تو کارروائی کررہا ہے اور نہ ہی ایف آئی آر درج کر رہا ہے۔ 
شہری انتظامیہ کے متعلقہ محکمہ کی اس لاپروائی سے شہریوں کو ٹینکر مافیا اوربورویل سے پانی کی چوری کے سبب ہونے والی پریشانی سے راحت دلانے کیلئے سماجی کارکن سریش کمار ڈھوکا نے کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں سماجی کارکن نے بتایا کہ ’’ ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بور ویل بناکر اس سے کی جانے والی پانی کی چوری اورتجارت سےمتعلق مہاراشٹر اسٹیٹ گراؤنڈ واٹر اتھاریٹی سے متعدد شکایتیں کی گئی تھیں۔ شکایتی مکتوب میں مہاراشٹر گراؤنڈ واٹر ڈیو لپمنٹ اینڈ مینجمنٹ ایکٹ ۲۰۰۹ءکے تحت کی جانے والی خلاف ورزیوں کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی کو بھی ٹینکر مافیا کے ذریعہ گراؤنڈ واٹر پائپ لائنوں سےاور غیر قانونی طور پر بور ویل بنا کر پانی کی چوری اور تجارت کرنے کی بھی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ مذکورہ شکایتوں پرسب ڈویژنل آفیسر نے شہر میں جا بجا غیر قانونی بور ویل بنانے اور ٹینکر مافیاکے ذریعہ بڑے پیمانے پر پانی کی چوری اور تجارت کرنے کا اعتراف تو کیا گیا لیکن اس سلسلےمیں نہ تو ان کے خلا ف کوئی کارروائی کی گئی نہ بورویل بند کئے گئے اور نہ ہی کسی کے خلاف ایف آئی آر ہی درج کی گئی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر کے تئیں بیدار رہنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے‘‘

سماجی کارکن کا مزید کہناتھاکہ’’قابل ذکر بات یہ ہے کہ متعلقہ محکموں کے افسران نے مضافات میں بنائے گئے کئی غیر قانونی بور ویل کا جائزہ بھی لیا ہے۔ ‘‘ 
یہی نہیں مذکورہ بالا معاملہ میں کی جانے والی پانی کی چوری کیلئے انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ ۱۹۸۶ء کے تحت اور تعزیرات ہند کی دفعات کا اطلاع کیا جانا چاہئے اور کیس درج کیا جانا چاہئے۔ 
سماجی کارکن نے کہا کہ’’ متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے دستاویزی ثبوت اور شکایتوں کے باوجود اس سنگین مسئلہ پر کوئی کارروائی نہ کئے جانے کے سبب وہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں داخل کی جانے والی عرضداشت میں متعلقہ محکموں اورافسران کو فریق بنا کر ان کیخلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK