Updated: April 13, 2026, 6:12 PM IST
| New Delhi
نئی دہلی میں ایران کے سابق سپریم لیڈر مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کے چہلم کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ہندوستانی اور ایرانی نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب میں پابترا مارگریٹا اور دیگر لیڈران نے دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کو سراہا اور عالمی امن پر زور دیا۔ ایرانی نمائندوں نے خامنہ ای کو ’’انصاف اور انسانیت کا علمبردار‘‘ قرار دیا۔ یہ تقریب ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والی یادگاری تقریبات کے تسلسل میں ہوئی، جہاں ان کی موت کے بعد ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں۔
نئی دہلی میں ایران کے سابق سپریم لیڈر مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر ایک اہم یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستانی حکام، ایرانی سفارتی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ تقریب ایرانی ثقافتی مرکز میں منعقد ہوئی جہاں سیکڑوں افراد نے شرکت کر کے مرحوم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں حکومت ہند کی نمائندگی پابترا مارگریٹا نے کی، جنہوں نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے تعزیت اور احترام کا اظہار کیا۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جے پور: متنازع گلابی ہاتھی ’’چنچل‘‘ کی موت، سیاحتی استحصال پر نئی بحث
اس موقع پر ہندوستانی سیاستداں مختار عباس نقوی نے بھی شرکت کی اور کہا کہ مختلف مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک جگہ جمع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خامنہ ای کو ایک روحانی لیڈر کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پیغام واضح تھا کہ قوموں کی خودمختاری، انصاف اور امن کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی تنازعات کا حل صرف بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ممکن ہے۔ ہندوستان میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے عبدالماجد حکیم الٰہی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اجتماع نہ صرف ایک عظیم لیڈر کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے ہے بلکہ ہندوستان کے عوام کے ساتھ اظہارِ تشکر بھی ہے۔ انہوں نے ہندوستانی عوام کو ’’دانشمند اور انصاف پسند‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ انصاف اور سچائی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان حکومت کو سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پالیسی کا حکم
یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب ایران میں بھی بڑے پیمانے پر یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تہران میں مرکزی ریلیاں نکالی گئیں جو جمہوریہ اسکوائر سے اس مقام تک گئیں جہاں خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔ ان تقریبات میں ایران کے صدر مسعود پیزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی عجئی، قدس فورس کے کمانڈر اسمائیل قانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ خامنہ ای ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شہید ہوئے تھے، جس کی تصدیق ایرانی حکومت نے یکم مارچ کو کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ایران بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی اور یادگاری اجتماعات دیکھنے میں آئے، جن میں عوامی شرکت نمایاں رہی۔ نئی دہلی میں منعقدہ چہلم کی تقریب نے ایک بار پھر ہندوستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی گہرائی کو اجاگر کیا، جبکہ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی کشیدگی کے ماحول میں امن، مکالمہ اور تعاون ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔