مرکزی محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے جدید ہائبرڈ پروپلشن ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے گروگرام میں قائم کے سی ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 6:25 PM IST | Mumbai
مرکزی محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے جدید ہائبرڈ پروپلشن ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے گروگرام میں قائم کے سی ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزی محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے پیر کے روز جدید ہائبرڈ پروپلشن ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے گروگرام میں قائم `کے سی ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ٹی ڈی بی نے اس سلسلے میں ’’بوسٹ الیکٹرک جمپ ٹیک آف (بی ای ۔ جے ٹی او)‘‘ پروجیکٹ کے لیے کمپنی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ پروجیکٹ ہندوستان اور برطانیہ کے باہمی تحقیقی و ترقیاتی پروگرام کے تحت برطانیہ کی اے آر سی ایرو سسٹم لمیٹڈ کے اشتراک سے چلایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: فیفا نے ایران کی میچز منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
پروجیکٹ کا مقصد ہائبرڈ پروپلشن پر مبنی جمپ ٹیک آف سسٹم تیار کرنا ہے، جس سے بغیر پائلٹ کے طیاروں (ڈرونز) اور ہلکے طیاروں کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختصر فاصلے سے یا تقریباً عمودی ٹیک آف ممکن ہو سکے گا، جس سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں فضائی آپریشن آسان ہو جائیں گے۔
اس اقدام کے تحت روٹر کرافٹ پروپلشن سسٹم کی جانچ کے لیے ایک جدید ترین ٹیسٹنگ سہولت بھی قائم کی جائے گی۔ یہ سہولت شمالی ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ہوگی اور ڈرون و جدید ایریل موبلٹی پر کام کرنے والے اسٹارٹ اپس اور ڈیولپرز کو ٹیسٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گی۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال علاقائی رابطوں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، طبی ہنگامی خدمات، لاجسٹکس اور نگرانی جیسے شعبوں میں کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھئے:جنید خان کی ’’ایک دن‘‘ کی ایڈوانس بکنگ ۳۹؍ دن پہلے شروع
ٹی ڈی بی کے سکریٹری راجیش کمار پاٹھک نے کہا کہ اس طرح کے بین الاقوامی تعاون کے منصوبے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ہندوستان کی ہوا بازی (ایوی ایشن) کی صلاحیتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ کمپنی کے نمائندوں نے کہا کہ اس تعاون سے نئی ٹیکنالوجیز کی جانچ اور تجارتی استعمال میں تیزی آئے گی۔