اسپین کو بیجنگ اور ۲۷؍ رکنی یورپی یونین کے درمیان ایک پُل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرنے والے سانچیز کا یہ گزشتہ چار سال میں چین کا چوتھا دورہ ہے۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 5:48 PM IST | Madrid
اسپین کو بیجنگ اور ۲۷؍ رکنی یورپی یونین کے درمیان ایک پُل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرنے والے سانچیز کا یہ گزشتہ چار سال میں چین کا چوتھا دورہ ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے پیر کو بیجنگ کے تین روزہ دورے کے آغاز پر چین کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی عدم توازن کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیا۔ وہ چین کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط کرنے کی امید رکھتے ہیں۔اسپین کو بیجنگ اور۲۷؍ رکنی یورپی یونین کے درمیان ایک پُل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرنے والے سانچیز کا یہ گزشتہ چار سال میں چین کا چوتھا دورہ ہے، چین کے ساتھ یہ تعلقات امریکہ کے ساتھ اس ملک کی کشیدگی کے مظہر ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے محصولات نے مغربی رہنماؤں میں تشویش پیدا کی ہے، جن میں برطانیہ، کنیڈا اور جرمنی کے رہنما بھی شامل ہیں، اور وہ قریبی تعلقات کی تلاش میں حالیہ مہینوں میں بیجنگ کا رخ کر چکے ہیں۔ تاہم، سانچیز نے زور دیا کہ یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارت غیر متوازن ہے اور بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ وہ یورپی درآمدات کے لیےاپنے دروازے کھولے۔ سانچیز نے تسنگ ہوا یونیورسٹی کے دورے کے دوران کہا کہ ’’ہمیں چین کی ضرورت ہے، اس کے دروازے کھلیں ، تاکہ یورپ خود کو بند نہ کرے۔‘‘
انہوں نے بیجنگ سے کہا کہ’’ ہمارے موجودہ تجارتی خسارے کودور کرنے میں مدد کریں۔ یہ غیر متوازن خسارہ محض پچھلے سال میں ۱۸؍ فیصد مزید بڑھا ہے۔ یہ ہمارے معاشروں کے لیے درمیانی اور طویل مدت کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘
تجارتی خسارے میں اضافہ
گزشتہ سال، تقریباً ۵۰؍ ملین آبادی والے اسپین نے چین کے ساتھ ۳ء۴۲؍بلین یورو کا تجارتی خسارہ درج کیا، جبکہ چین کی آبادی ۴ء۱؍بلین سے زیادہ ہے۔سانچیز نے مزید کہا کہ اسپین کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ یورپ کے کل خسارے کا ۷۴؍ فیصد ہوتاہے۔ہسپانوی رہنما چین کے ساتھ تجارت کو فروغ کے خواہاں بھی ہیں کیونکہ ٹرمپ، جو مئی میں بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں، نےگزشتہ ماہ اسپین کے ساتھ تجارت کم کرنے کی دھمکی دی تھی۔
ٹرمپ کی دھمکیاں اس وقت سامنے آئی تھیں جب اسپین نے ایران کے خلاف امریکی حملوں کے لیے اپنی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی، جو بیجنگ کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ ہسپانوی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کا ایک بنیادی مقصد زرعی اور صنعتی اشیاء کے لیے منڈی تک بہتر رسائی کرنا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کو تلاش کرنا ہے۔ سانچیز اس دورے میں یورو زون کی چوتھی بڑی معیشت کے لیے نئے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے اور چین کے اہم خام مال تک رسائی حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ پیر کو ان کا شاؤمی کے ہیڈکوارٹر کے دورے اور چینی اکیڈمی آف سائنسز میں ایک ٹیکنالوجی شو کو دیکھنا طے ہے۔ سانچیز منگل کو صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سمیت اعلیٰ چینی حکام سے ملاقات کریں گے۔ اپریل ۲۰۲۵ءمیں چین کے اپنے دورے کے دوران، بیجنگ نے سور کا گوشت اور چیری سمیت متعدد ہسپانوی مصنوعات کے لیے رسائی بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پہلی فلم پانے کیلئے ۱۵؍ سال لگے، امسال ۳؍ فلمیں ریلیز ہورہی ہیں: اویناش تیواری جذباتی
اسپین گیٹ وے
میڈرڈ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے چین سے متعلقہ ماہر کلاڈیو فیخو نے کہا کہ اسپین، چینی سرمایہ کاروں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے، اس کی معیشت یورپ کی تیز رفتار معیشتوں میں سے ایک ہے اور توانائی کے اخراجات نسبتاً کم سطح پر ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں چین کے خلاف کم تنازعی اور واشنگٹن کے اثر سے ہٹ کر آزادانہ طور پر فیصلے کرنے والے اسپین کے ساتھ چین نسبتاً دوستانہ تعلقات رکھتا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کا جادو برقرار: ۲۴؍واں گول داغ کر النصر کی فتح یقینی بنا دی
اسپین کو یورپ، لاطینی امریکہ اور شمالی افریقہ کے لیے ایک گیٹ وے سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک حب کے طور پر کام کر سکتا ہے، یہاں سے متعدد منڈیوں تک بیک وقت رسائی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات چین میں سب سے زیادہ پر کشش ہیں، اور نوٹ کیا کہ ہمارا ملک ’’اپنی ضرورت کی تمام خوراک پیدا نہیں کر سکتا، یا کم از کم اپنی آبادی کے معیار کے مطابق نہیں بنا سکتا‘‘، جبکہ اسپین کئی غذائی اشیاء کا بڑا پیدا کنندہ ہے۔