حافظ مجسم علیمی ۲۱؍برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں ۔ رمضان المبارک کا چاندنظرآنے سے قبل پیشہ ٔ طبابت چھوڑ کروہ بہرائچ سے ممبئی کےلئے رختِ سفر باندھ لیتے ہیں۔ اس وقت وہ میراروڈ میںگنگا کمپلیکس کی مسجد ومدرسہ محب القرآن میںتراویح پڑھا رہے ہیں۔
حافظ وقاری مجسم علیمی قرآن مجید کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
حافظ وقاری مجسم علیمی (۴۵) ۲۱؍ برس سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ و ہ پیشے سے حکیم ہیں ،عالم ہیں اور لڑکیوںکا ’جواری فاطمۃ الزہراء‘ کے نام سے ادارہ بھی چلاتے ہیں۔ ان کا تعلق یوپی ضلع بہرائچ سے ہے۔ رمضان المبارک میںحکمت کا پیشہ چھوڑ کر تراویح پڑھانے ممبئی آتے ہیں، اب تک کبھی ایسا موقع نہیںآیا جب تراویح نہ پڑھائی ہو۔ گزشتہ ۱۵؍ سال سے میراروڈ میں لودھا روڈ پر واقع گنگا کمپلیکس کی مسجد و مدرسہ محبّ القرآن میں ۲۷؍ روزہ تراویح پڑھارہے ہیں۔ اس سے قبل ممبئی کے الگ الگ علاقوں میں سناچکے ہیں ۔ اپنے آبائی وطن کٹلیا بھوپسی (بہرائچ ) میں، اترولہ میں، لکھنؤ بانس منڈی اور سیتاپورمیں بھی تراویح پڑھا چکے ہیں۔
حافظ محمد مجسم نے الجا معۃ القادریہ مٹیرا بازار بہرائچ میں قاری شکیل احمد کے پاس حفظ کیا تھا، اس کے بعد۲۰۰۵ء سے تراویح پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ بحیثیت حکیم وہ رِسیا بازار(بہرائچ) میں مطب چلاتے ہیں، یہی ان کا ذریعۂ معاش ہے۔حکمت کی باقاعدہ تعلیم بریلی شریف میں دارالحکمت جامع الرضاء ہربل پرائیویٹ لمیٹڈ سے حاصل کی۔۲۰۱۳ء میں یوپی کے مشہور دینی ادارہ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی سے عالمیت کی سند حاصل کی ۔آپ کا کہنا ہےکہ حکمت کا پیشہ اپنی جگہ مگر قرآن کریم یاد رکھنے کی فکر اپنی جگہ ہے۔ رمضان المبارک میںاس لئے پیشۂ طبابت کو وقتی طور پرموقوف کردیتے ہیں کہ قرآن کریم کی یادداشت تراویح میں سناکرتازہ کرلی جائے، اس کے بعد ۱۱؍ماہ تومطب چلتا ہی رہے گا۔ اگر خدانخواستہ قرآن کریم کی یادداشت کمزور پڑگئی تویہ بہت بڑا بلکہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ اس لئے رمضان المبارک کاچاند نظرآنے سے قبل ہی ممبئی کے لئے رختِ سفر باندھ لیتا ہوں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اساتذہ کی جانب سے سختی سےتنبیہ کی گئی تھی کہ رزق ِ حلال کےلئے کوئی بھی پیشہ اختیارکرنا مگراللہ کے مقدس کلام کی عظمت اوراس کی یادداشت کے تعلق سے ہمیشہ فکرمند رہنا اورتراویح ضرور پڑھانا، اسے میں نے گرہ میںباندھ لیا ۔ سب سے زیادہ خوشی مجھے اس بات کی ہے کہ میرے استاد نہ صرف بقید حیات ہیںبلکہ آج بھی وہ پابندی سے تراویح پڑھارہے ہیں(امسال وسئی میں)۔استاد کا یہ عمل ہمارے اور دیگر درسی ساتھیوں کے لئے مزید تحریک کاباعث ہونےکے ساتھ باعثِ سبق ہے۔ خداوند قدوس ہمارے استاد کو صحت وسلامتی کےساتھ رکھے ۔
حافظ مجسم علیمی نے اب تک تنہا ہی تراویح پڑھائی ہے ۔نئے حفاظ کے تعلق سے ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم یاد رہے تورمضان کی آمد پر انحصار نہ کریں بلکہ پورے سال حصول برکت کی غرض سے کم سے کم یومیہ ایک پارہ کی تلاوت معمول بنالیں تو امید ہے کہ تراویح پڑھانے میںکوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔