• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھواڑہ کے ساتھ حکومت کا سوتیلا سلوک، ترقی سے کوئی سروکار نہیں: امباداس دانوے

Updated: September 13, 2026, 11:45 AM IST | Z.A Khan | Hingoli

مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن پر اورنگ آباد میں کابینہ اجلاس نہ ہونے پر اپوزیشن لیڈر کی حکومت پر تنقید، خطےکے ساتھ مسلسل نا ا نصافی کا الزام۔

Scene of protest in front of the District Collector`s office in Hingoli in the presence of Ambadas Danve. Photo: INN
ہنگولی میں ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے امباداس دانَوے کی موجودگی میں احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این

مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن کے موقع پر ہر سال اورنگ آباد میں ہونے والا ریاستی کابینہ کا اجلاس اس سال بھی منعقد نہ کیے جانے پر مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر امباداس دانَوے نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کو مراٹھواڑہ کی ترقی سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی اور خطے کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جارہی ہے۔ 
ہنگولی میں ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے امباداس دانَوے کی موجودگی میں احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر سنتوش ٹارپے، ٹھاکرے گروپ کے ضلع صدر اجے عرف گوپو پاٹل ساونت، سندیش دیشمکھ، سابق ضلع پریشد رکن ماؤلی جھٹے، وسیم دیشمکھ، دلیپ گھوگے اور رینوکا پتانگے سمیت پارٹی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔ احتجاج کے بعد مظاہرین کی جانب سے مختلف مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت انتظامیہ کے حوالے کی گئی۔ امباداس دانَوے نے کہا کہ حکومت کو اب مراٹھواڑہ کی ترقی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ مراٹھواڑہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی پر مبنی رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن کے موقع پر اورنگ آباد میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں حکومت نے مراٹھواڑہ کی ترقی کے لیے تقریباً۵۶؍ ہزار کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ اعلان محض کاغذوں تک محدود رہ گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا ساتھ، امریکہ کو انتباہ، اسرائیل کو اشارہ

دانَوے کے مطابق اس اعلان میں سے اب تک صرف۳۳۰۰؍ کروڑ روپے ہی حاصل ہوئے ہیں اور یہ رقم بھی مکمل طور پر خرچ نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مراٹھواڑہ کی ترقی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حکمراں جماعت کے لوگ بھی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ آبپاشی کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے امباداس دانَوے نے کہا کہ حکومت نے مراٹھواڑہ میں متعدد آبپاشی منصوبوں کے اعلانات کئے لیکن ان میں سے کئی منصوبوں کا اب تک سروے بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی جانب سے اعلان کردہ دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے منصوبے کا بھی ابھی تک سروے نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی کے منصوبے عملی شکل اختیار نہ کرنے کے باعث مراٹھواڑہ خشک سالی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ حکومت کو محض اعلانات کرنے کے بجائے عملی کام پر توجہ دینی چاہیے۔ 
کسانوں کے لیے اعلان کردہ پُنیہ شلوک اہلیہ دیوی ہولکر قرض معافی اسکیم پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دانَوے نے اسے مبینہ طور پر دھوکہ قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کے سامنے یہ اعداد و شمار پیش کرے کہ اب تک کتنے کسانوں کے بینک کھاتوں میں قرض معافی کی رقم جمع کرائی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK