Updated: September 13, 2026, 12:26 PM IST
| Lucknow
سوال پوچھنے کی کوشش کرنے والی دِویا شریواستو کوچینل سے نکال دیاگیا، بلڈوزر کارروائی کے انتباہ اور روپوش ہوجا نے کے ’مشورہ‘ کی بھی شکایت، سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے سخت تنقید کی، اکھلیش یادو نے بی جےپی کو’’پریس کانفرنس ‘‘کا نام بدل کر’’ پریس ایکالاپ ‘‘ کردینے کا طنزیہ مشورہ دیا۔
یوگی آدتیہ ناتھ پریس سے یکطرفہ خطاب کے بعد روانہ ہوتے ہوئے۔۔ تصویر: آئی این این
سنیچر کو’سیوا سنکلپ ابھیان ‘ کے تعلق سے لکھنؤ میں صحافیوں کو ’’پریس کانفرنس‘‘ کی دعوت دیکر مدعوکیاگیا مگر وزیراعلیٰ نے یکطرفہ خطاب کیا اور روانہ ہوگئے۔ اس پر ہال میں موجود صحافیوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور دِویا شریواستو نامی خاتون صحافی نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہ آواز بلند کہا کہ ’’مکھیہ منتری جی سوال کا جواب تو دیتے جائے، یہ پریس کانفرنس ہے‘‘ مگر نہ صرف یہ کہ وزیراعلیٰ نہیں رکے بلکہ الزام ہے کہ بعد میں بی جےپی کارکنوں نے دویا کو بلڈوزر کارروائی کی دھمکیاں دیں اوراسےروپوش ہوجانے کا’’مشورہ‘‘ دیا۔ دویا نے بعد میں روتے ہوئے ایک یوٹیوب چینل کو بتایا کہ اسے اُس چینل سے بھی نکال دیاگیاہے جس کیلئے وہ کام کررہی تھی۔ دویا کا ویڈیو وائرل ہوجانے سے وزیراعلیٰ کی سخت سبکی ہورہی ہے اور اپوزیشن نے انہیں اپنے نشا نے پر لے لیا ہے۔
سوالوں سے بچنے پر اکھلیش کا طنز
سماجواددی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یاد و نےیوگی آدتیہ ناتھ کے طرز عمل پر تنقید کرتےہوئے طنزیہ ’ایکس ‘ پوسٹ کیا ہے کہ ’’نام بدلنے والے اب پریس کانفرنس کا نام بھی بدل کر ’’پریس ایکالاپ‘‘ (پریس سے یکطرفہ خطاب)کردیں ۔ ‘‘
دویا کا ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے یوپی کے سابق وزیراعلیٰ نے لکھا ہے کہ ’’جب صرف بیان دینا ہے، میڈیا کو سوال پوچھنے کا حق نہیں توپریس کانفرنس کا کیا مطلب رہ جاتا ہے ؟ سب کا وقت کیوں برباد کیا جارہاہے، پریس ریلیز بھیج کر ہی کام چلائیں اوردونوں کا وقت بچائیں ۔ ‘‘ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’سچ یہ ہے کہ یوپی میں سوالوں کا انبار ہے، لیکن ان کے پاس جواب ہی نہیں ہیں ، منھ موڑ کر جانا ہی میدان چھوڑ کر بھاگنا بھی کہلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مراٹھواڑہ کے ساتھ حکومت کا سوتیلا سلوک، ترقی سے کوئی سروکار نہیں: امباداس دانوے
پوچھ تاچھ کی اطلاعات پر کانگریس برہم
کانگریس ریاستی صدر اجے رائے نے خاتون صحافی سے مبینہ پوچھ گچھ کی اطلاعات پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ خبر لکھے جانے تک پوچھ تاچھ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اجے رائے نے کہا کہ جمہوریت میں سوال پوچھنا کوئی جرم نہیں ہے اور صحافیوں کا بنیادی کام عوامی مفاد سے جڑے سوالات اقتدار کے سامنے رکھنا ہے۔ کیا سوال پوچھنا اتنا بڑا گناہ ہو گیا ہے کہ اب سوال کرنے والی صحافی سے ہی پوچھ گچھ کی جانے لگی؟انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس میں صحافی دویا شریواستو کے سوال اٹھانے کے بعد حکومتی حلقوں میں بوکھلاہٹ اور بے چینی واضح طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔ کانگریس ریاستی صدر نےکہا کہ اگر خاتون صحافی کا جرم اقتدار سے سوال کرنا ہے تو یہ جمہوریت کیلئے انتہائی تشویش ناک ہے۔
پریس کانفرنس میں اوراس کے بعد کیا ہوا؟
جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس میں خاتون صحافی دویا شریواستو اسٹیج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ’جب سوال کا جواب نہیں دینا ہوتا ہے پریس کانفرنس کیوں ہوتی ہے؟ ‘‘ بعد ابھیشیک اپادھیائے نامی یوٹیوبر صحافی سے بات چیت میں دویا نے بتایا کہ’’وزیراعلیٰ کے جا نے کے بعد بی جےپی کارکنوں نے مجھے گھیر لیا، میرے خلاف غلط الفاظ استعمال کئے، دھمکیاں دی اور جب میں آگے بڑھ گئی توکہا کہ اس کے گھر پر تو اب بلڈوزر چلے گا۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’میرے ویڈیو کے نیچے تبصرہ میں لوگ گالیاں دے رہے ہیں اوردھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’بہت سے لوگ مجھے یہاں سے چلنے جانےا ور انڈر گراؤنڈ ہوجانے کےمشورے دے رہے ہیں جیسے میں کوئی بہت غلط کام کردیاہے۔ ‘‘دویا نے اپنے چینل کا نام نہیں بتایا ہے۔