برکس کا اعلامیہ منظور، جنگ وجدال روکنے، پائیدار ترقی، بھوک اور غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعددمسائل کیلئے کثیر جہتی نقطۂ نظر کی حمایت۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 10:53 AM IST | Ahmedullah Siddiqui | New Delhi
برکس کا اعلامیہ منظور، جنگ وجدال روکنے، پائیدار ترقی، بھوک اور غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعددمسائل کیلئے کثیر جہتی نقطۂ نظر کی حمایت۔
برکس سربرا ہ اجلاس میں وزیراعظم مودی کے ذریعہ اور ہندوستان کی صدارت میں پیش کئے گئےبرکس نئی دہلی اعلامیہ کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اعلامیہ میں علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کے ساتھ اس میں کئی تجاویز اور نکات بھی شامل ہیں۔ اس اعلامیہ کی خاص بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس کے ذریعے نئی دہلی نے ایران کو اپنے ساتھ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے اور اسرائیل کو بھی اشارہ دیا ہےکہ وہ اب ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ اعلامیے میں برکس ممالک نے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے کیلئے مضبوط عالمی اقدام پر زور دیا۔ ساتھ ہی بین الاقوامی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے بات چیت، مشاورت اور سفارتکاری کی ضرورت اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے سمیت اس کی روک تھام پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا گیا۔ برکس نے جاری تنازعات اور بڑھتے ہوئے عالمی فوجی اخراجات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی پذیر ممالک کی ترقیات کی قیمت پر ہورہاہے۔ اعلامیہ میں پائیدار ترقی، بھوک اور غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مسائل کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کی حمایت کی گئی۔
فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت
برکس کے اعلامیہ میں مغربی ایشیا کے تنازع کو کافی اہم جگہ دی گئی۔ برکس ممالک نےغزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور انسانی امداد کو بلاروک ٹوک جاری رکھنےپر زوردیا۔ اعلامیہ میں اکتوبر ۲۰۲۵ء کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی بے دخل کرنے کی پالیسیوں کی بھی مخالفت کی گئی۔ برکس گروپ کے ممالک نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت اوردو ریاستی حل سمیت ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کے مطابق غزہ اور مغربی کنارہ پرمشتمل خودمختار فلسطینی ریاست اوریروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانےکی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: شہزادی ڈائنا کا مشہور ’ریونج ڈریس‘ نیلامی کیلئے پیش، اس سے قبل ورلڈ ٹور
اسرائیل کی واضح مذمت
برکس اعلامیہ میں لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئےاسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لبنانی حکومت کے ساتھ طے پانے والی شرائط کا احترام کرے اور ان تمام لبنانی علاقوں سے اپنی افواج کا انخلا کرے جہاں وہ تاحال موجود ہیں۔ برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ اس گروپ نے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیا اور خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے زیادہ سے زیادہ استعمال کا مطالبہ کیا۔ اس نے عالمی تجارت، سپلائی چین اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ برکس ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات اور ایک ایسے کثیر جہتی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا جو غیر امتیازی، منصفانہ اور قواعد پر مبنی ہو اور جس کا مرکزی محور عالمی تجارتی تنظیم ہو۔ اس گروپ نے عالمی تجارتی تنظیم کے تنازعات کے تصفیے کے دو سطحی نظام کی مکمل فعالیت کی فوری بحالی اور ’اپیلٹ باڈی‘ کے نئے اراکین کی تقرری کا مطالبہ کیا۔
برکس ممالک نے اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا تاکہ اسے مزید جمہوری، نمائندہ، مؤثر اور کارآمد بنایا جا سکے۔ اس گروپ نے سلامتی کونسل میں ترقی پذیر ممالک، بالخصوص افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک کی زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کیا۔ چین اور روس نے اقوام متحدہ میں برازیل اور ہندوستان کے زیادہ فعال کردار کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام اقسام کی پرزور مذمت کی، قطع نظر اس کے محرکات، مقام یا مرتکب افراد کون ہیں اور اس تعلق سےسخت موقف کا اعادہ کیا۔
اعلامیہ میں جموں کشمیر میں ۲۲؍اپریل ۲۰۲۵ءکو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی جس میں ۲۶؍افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ اس میں سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی بھی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب نہیں کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی کے خلاف اے آئی میمز پربی جے پی آر ایس ایس کو تنقید کا سامنا
نئی دہلی اعلامیہ کے اہم نکات
بین الاقوامی امن و سلامتی پر زور
جنگ وجدال روکنے کا مطالبہ
غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد جاری رکھنے پرزور، دو ریاستی حل کا مطالبہ
لبنان میں خلاف ورزیوں کی مذمت
اسرائیل سے غزہ خالی کرنے کا مطالبہ
ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت
پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے اور ان سے نمٹنے کا عزم
ایرانی صدر کی بیٹی نے برکس بازار میں شاپنگ کی
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی بیٹی زہرہ نے دہلی میں نیشنل کرافٹس میوزیم میں واقع ’’برکس بازار‘‘ کا دورہ کیا۔ وہاں، انہوں نے ہندوستان اور دیگر ممالک کے روایتی فن، ثقافت، اور ہینڈ لومز سے لطف اٹھایا اور شاپنگ کی۔ زہرہ نے اپنے شوہر حسن مجیدی کے ساتھ بازار کا دورہ کیا۔