مہاراشٹر کی سیاست میں بلدیاتی سطح پر جاری رسہ کشی کے درمیان امبرناتھ میونسپل کونسل کے نائب صدر کے انتخاب نے ریاست بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔
رکن پارلیمان شری کانت شندے، سدا شیوپاٹل اوردیگر افراد۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر کی سیاست میں بلدیاتی سطح پر جاری رسہ کشی کے درمیان امبرناتھ میونسپل کونسل کے نائب صدر کے انتخاب نے ریاست بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ انتہائی ڈرامائی موڑ اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد بی جے پی کو اس وقت زبردست سیاسی دھچکا لگا جب این سی پی( اجیت پوار) کے امیدوار سداشیو پاٹل نے شیو سینا( شندے) کی مدد سے نائب صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔ اس نتیجے نے نہ صرف بی جے پی کے قلعے میں دراڑ پیدا کر دی ہے بلکہ مستقبل میں سیاسی تصادم کا بگل بھی بجا دیا ہے۔
واضح رہے کہ ۵۹ ؍رکنی امبرناتھ میونسپل کونسل میں عددی طاقت کا مقابلہ برابری پر تھا۔ گزشتہ انتخابات کے بعد بی جے پی نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔اس عمل کے دوران کانگریس کے ۱۲ ؍منحرف کارپوریٹرس نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی جس سے بی جے پی کی اپنی تعداد ۲۶ ؍ ہو گئی تھی۔ ایک آزاد امیدوار کی حمایت کے بعد بی جے پی ۲۷؍کے ہندسے تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔ دوسری طرف شیو سینا بھی ۲۷ ؍اراکین کے ساتھ میدان میں مضبوط کھڑی تھی۔انتخابات سے قبل امبرناتھ وکاس اگھاڑی نے تمام اراکین کیلئےسخت وہپ جاری کیا تھاجس میں واضح کیا گیا تھا کہ پارٹی لائن سے انحراف کرنے والوں کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس تناؤ بھرے ماحول میں سب کی نظریں اجیت پوار گروپ کے ان ۴ ؍کارپوریٹروں پر ٹکی ہوئی تھیں جو ’کنگ میکر‘ کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ذرائع کے مطابق بی جے پی کے قدآور لیڈرکشن کتھورے نے خود اس انتخاب کیلئے بساط بچھائی تھی جبکہ شیو سینا کی جانب سے رکن پارلیمان ڈاکٹر شری کانت شندے پیش پیش تھے، عین وقت پر این سی پی کے ۴ ؍ اراکین نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر شیوسینا( شندے ) کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ اس اتحاد کے نتیجے میں این سی پی کے سداشیو پاٹل نے بی جے پی کے پردیپ پاٹل کو شکست دے کر کرسی سنبھال لی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محض ۴ ؍ اراکین رکھنے کے باوجود این سی پی بی جے پی اور شیو سینا کے باہمی اختلاف کا فائدہ اٹھا کر یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جو کہ بی جے پی کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔