• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : پانی کی قلت سے شہری بے حال، پاش علاقے بھی متاثر

Updated: January 13, 2026, 12:57 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

گزشتہ کئی مہینوں سے رات میں صرف دو گھنٹے اور اس میں بھی تقریباً ایک گھنٹہ کافی کم دباؤ کے ساتھ پانی سپلائی کی شکایتیں۔

Bhiwandi Nizampur Municipal Corporation headquarters. Picture: INN
بھیونڈی نظامپورمیونسپل کارپوریشن کا صدردفتر۔ تصویر: آئی این این
یہاں پینے کے پانی کی کم دباؤ سے سپلائی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف عام آبادی تک محدود نہیں رہا بلکہ اشوک نگر ،گوکل نگر، اجے نگر اور آدرش نگر جیسے پاش علاقوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔پانی کی قلت سے شدید متاثر علاقوں میں شامل اشوک نگر میں میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ آب رسانی کی جانب سے پرانی پائپ لائنیں نکال کر نئی لائنیں بچھائی گئی ہیں مگر مقامی شہریوں کے مطابق اس اقدام کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکریٹری تاتیاساہیب پانگڑے نے بتایا کہ اشوک نگر میں گزشتہ کئی مہینوں سے رات۱۲؍بجے سے۲؍بجے تک صرف ۲؍ گھنٹے پانی آتا ہے، جس میں سے تقریباً ایک گھنٹہ پانی نہایت کم دباؤ کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے سوسائٹی کی پانی کی ٹنکیاں پوری طرح نہیں بھر پاتیں اور مکینوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کم دباؤ کی وجہ سے بعض سوسائٹیوں میں لوگوں کو روزانہ محض ۲۰؍ منٹ ہی پانی مل پاتا ہے جبکہ مرمت کے دوران یا  اسٹیَم اتھاریٹی کی جانب سے سپلائی بند کئے جانے کی صورت میں بالکل پانی دستیاب نہیں ہوتا۔ 
اشوک نگر کے رہائشی پرفلّ گوسرانی نے بتایا کہ نئی پائپ لائن کے ساتھ ایک الیکٹرک موٹر نصب کی گئی ہے لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود وہ موٹر ابھی تک شروع نہیں کی جا سکی جس کے سبب علاقے کو اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ 
بھیونڈی جین مہاسنگھ کے صدر اشوک جین کے مطابق شہر کے کئی علاقوں میں پانی محدود وقت کیلئے وہ بھی انتہائی کم دباؤ کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے جس کے سبب روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ غیر منظم سپلائی کے باعث اکثر سوسائٹیوں کی پانی کی ٹنکیاں پوری طرح نہیں بھر پاتیں اور شہریوں کو مہنگے ٹینکر کے پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی صورتحال کے باعث کئی بڑے تاجر ب بہتر سہولتوں کی تلاش میں کلیان، تھانے اور ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں منتقل ہونے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں جس سے نہ صرف شہر کی سماجی ساخت متاثر ہو رہی ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر پانی کی فراہمی کو باقاعدہ، منصفانہ اور مناسب دباؤ کے ساتھ یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں یہ نقل مکانی مزید تیز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بلدیاتی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ پینے کے پانی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور بھیونڈی جیسے اہم تجارتی شہر کو درپیش اس بنیادی بحران سے نکالا جا سکے۔
میونسپل محکمۂ آب رسانی کے افسران کا دعویٰ ہے کہ شہر میں باقاعدہ پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے، تاہم بعض مقامات پر شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر پائپ لائن جوڑ لینے کے باعث پانی کی تقسیم متاثر ہو رہی ہے۔اس ضمن میں میونسپل محکمۂ آب رسانی کے ایگزیکٹیو انجینئر سندیپ پٹناور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اشوک نگر میں نصب  موٹرکیلئے بجلی کا میٹر منظور ہو چکا ہے اور جلد ہی میٹر نصب کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق میٹر لگنے کے بعد علاقے میں پانی سپلائی معمول پر آنے کی امید ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK