کہا :ان کی رکنیت فوراً منسوخ کردی جائے۔سوشل میڈیا پر بھی غم وغصے کا اظہار۔ کانگریس کے باغی کونسلروں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔
کانگریس کے کونسلرس بی جے پی کے ریاستی صدررویندر چوان کی موجودگی میں زعفرانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر کی سیاست میں اخلاقی اقدار کی پامالی اور موقع پرستی کا ایک اور سیاہ باب اس وقت رقم ہوا جب امبر ناتھ میونسپل کونسل میں بی جے پی نے پوری کی پوری کانگریس کا صفایا کردیا۔ وہیں عوامی مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوئے کانگریس کے تمام ۱۲ ؍نو منتخب کونسلرس نے پارٹی قیادت سے غداری کی اور بی جے پی کے ’آپریشن لوٹس‘ کا حصہ بن کر اپنی وفاداریاں تبدیل کر لیں۔کانگریس سے معطل شدہ تمام کونسلرس نے جمعرات کو بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوان کی موجودگی میں بی جے پی میں شمولیت اختیارکرلی۔اس معاملے پر عوام میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔
ہوا کیاتھا؟
امبر ناتھ میونسپل کونسل کے نتائج آنے کے محض تین ہفتوں کے اندر ہی وہ حیران کن منظر دیکھنے کو ملا جہاں بی جے پی اور کانگریس کے اراکین بغل گیر نظر آئے۔ ایوان میں شیو سینا (شندے) ۲۷ ؍ سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی قوت بن کر ابھری تھی لیکن اسے اقتدار سے دور رکھنے کیلئے بی جے پی نے کانگریس اور این سی پی (اجیت پوار) کے ساتھ مل کر ’امبر ناتھ وکاس اگھاڑی‘ کے نام پر ایک ایسا اتحاد بنایا جس کی کوئی نظریاتی بنیاد نہیں ہے۔ اس اتحاد کے ذریعے ۳۱؍اراکین کی اکثریت حاصل کر کے میونسپل انتظامیہ کو چیلنج کر دیا گیا۔کانگریس پارٹی کیلئے یہ صورتحال ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی۔ پارٹی نے اپنے ۱۲ ؍باغی اراکین کو معطل تو کر دیا لیکن یہ اراکین نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق پارٹی پر ہی عدم تعاون کا الزام تھوپ دیا اور ۲۴ ؍ گھنٹوں کے اندر بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوان کی موجودگی میں ’زعفرانی مفلر‘ گلے میں ڈال لئے۔
بی جے پی کے صدر رویندر چوان نے اسے مودی کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا نتیجہ قرار دیا لیکن سیاسی مبصرین کا سوال ہے کہ کیا ترقی صرف اقتدار میں رہنے سے ہی ممکن ہے؟ کیا ان ۱۲ ؍اراکین کو ووٹ دینے والے شہریوں نے انہیں بی جے پی کی گود میں بیٹھنے کیلئے منتخب کیا تھا؟ اس سیاسی قلابازی نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں ووٹوں کی گنتی سے زیادہ کارپوریٹرس کی خرید و فروخت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ امبر ناتھ اب سیاسی طور پر کانگریس مکت تو ہو گیا ہے لیکن عوام کی عدالت میں اس اتحاد کا کیا حشر ہوگا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
’’الیکشن لڑنے پرپابندی عائدکی جانی چاہئے‘‘
کانگریس کے کونسلرس کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایڈوکیٹ صابر چودھری نے اسے سیکولر عوام کے ساتھ ایک بڑی سیاسی بددیانتی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ان کونسلرس نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے قیمتی ووٹوں کی بدولت کامیابی حاصل کی تھی لیکن اب وہ ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے ایک فرقہ پرست جماعت کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام رائے دہندگان کے ساتھ سراسر دھوکہ دہی اور ان کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضمیر فروشی کرنے والے ان تمام کونسلرس کی رکنیت فوری طور پر منسوخ کی جائے اور متعلقہ حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوام کو ایک بار پھر اپنی امنگوں کے مطابق اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔
امبرناتھ کے مکیں ڈاکٹر زبیر شاہ کا دعویٰ ہے کہ حالیہ انتخابی نتائج بی جے پی کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ای وی ایم مشینوں میں ہیرا پھیری کے ذریعے جان بوجھ کر کانگریس کے امیدواروں کو کامیاب کروایا گیا تاکہ ان علاقوں میں شیو سینا کی مضبوط گرفت کو کمزور کیا جا سکے۔ڈاکٹر شاہ کے مطابق بی جے پی نے ان حلقوں میں کانگریس کی جیت کی راہ ہموار کی جہاں شیو سینا کی کامیابی کے قوی امکانات تھے تاکہ سیاسی توازن کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ انہوں نے اسے سیکولر عوام کے ساتھ ایک سخت ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ۲؍ روز سے سوشل میڈیا پر بھی عوام کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
صحافی بال کرشن مورے نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد اصولی طور پر ممکن ہی نہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ذاتی مفادات اور مالی لالچ کے تحت کانگریس کے بعض ضمیر فروش کونسلرس نے فرقہ پرست جماعت کا دامن تھام لیا ہے۔ ایسے عناصر نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ جمہوری اقدار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اس لئے ان تمام کونسلرس پر الیکشن لڑنے کی پابندی عائد کی جانی چاہئے۔