برطانیہ، فرانس، جاپان،جنوبی کوریا، آسٹریلیا، جرمنی اور یونان نے فوج بھیجنے سے صاف انکار کردیا، آبنائے ہرمز کے نام پر جنگ میں دوسروں کو شامل کرنے میں ٹرمپ ناکام
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 11:42 PM IST | Tehran
برطانیہ، فرانس، جاپان،جنوبی کوریا، آسٹریلیا، جرمنی اور یونان نے فوج بھیجنے سے صاف انکار کردیا، آبنائے ہرمز کے نام پر جنگ میں دوسروں کو شامل کرنے میں ٹرمپ ناکام
ایران پر تھوپی گئی جنگ میں امریکہ پوری طرح اکیلا پڑ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے نام پر دوسروں کو بھی اور خاص طور پر نیٹو کے اتحادی ملکوں کو جنگ میں شامل کرنے کی ٹرمپ کی کوشش بھی بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ برطانیہ، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، جرمنی اور یونان نے ایران کے خلاف فوج اور بحری جہاز بھیجنے کی امریکی صدر کی اپیل کو پیر کو ٹھکرادیا ہے۔
امریکی صدر ڈ نے اپنے اتحادیوں اور چین سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی بحریہ کے جنگی جہاز امریکہ کاساتھ دینے کیلئے بھیجیں تاکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھا جا سکے تاہم کسی ملک نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر نہیں کی ۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کہاتھا کہ ’’جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ جیسے ممالک کو اس اقدام میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ ان کی معیشتیں بھی خلیج کی تیل کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔‘‘
برطانیہ کا انکار، جنگ کے خاتمہ پر زور
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے ساتھ ہی اعلان کیا کہ خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں لیکن اسے جلد بحال کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
جاپان اور دیگر نے بھی ٹکا سا جواب دیا
جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے بھی ٹرمپ کی اپیل کا ٹکا سا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنے فوجی جہاز بھیجنے کا جاپان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس بات پر غو رکررہے ہیں کہ جاپان اپنے طور پر کیا کرسکتاہے۔ فرانس نے بھی فوجی جہاز بھیجنے سےانکار کردیا ہے۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر فوجی جہازنہیں بھیجے گا۔
ہرمز کی سلامتی نیٹوکی ذمہ داری نہیں: جرمنی
جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈپل نے ہرمز کے نام پر نیٹو کے اتحادیوں کو جنگ کا حصہ بنانے کی سازش کو بڑی حدتک سمجھتے ہوئے شکوک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہےکہ ’’جرمنی کسی نئی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔‘‘ جرمنی نے نیٹو کیلئے ٹرمپ کی دھمکی آمیز اپیل کا جواب دیتےہوئے کہا ہے کہ ’’آبنائے ہرمز کی سلامتی نیٹو کی ذمہ داری نہیں ہے۔‘‘جرمن وزیر دفاع فورس پستوریئس نے کہا ہےکہ’’ صدر ٹرمپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ایک یا دو یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں ایسا کیا کرلیں گے جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کرسکتی؟‘‘
’ یہ ہماری جنگ نہیں ، نہ ہم نے اسے شروع کیا‘
انہوں نے کہا کہ’’ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، نہ ہی ہم نے یہ جنگ شروع کی ہے۔ ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع کی گئی جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘جرمن چانسلر کے ترجمان اسیفن کونیلیوس نے بھی کہا ہے کہ نیٹو علاقائی دفاع کا اتحاد ہے، نیٹو کی تعیناتی کیلئے مینڈیٹ کی کمی ہے۔یونان حکومت کے ترجمان پاؤلوس مریناکیس نے بھی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یونان آبنائے ہرمز میں کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنےگا۔‘‘ جنوبی کوریا کا کہنا ہےکہ ہم نے ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے، مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا قریبی سے جائزہ لے رہے ہیں۔