Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا امریکہ اب بھی عظیم ہے؟ ایک چوتھائی شہریوں نے اسے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا

Updated: June 09, 2026, 3:04 PM IST | Washington

امریکہ میں ہونے والے ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اب اپنے ملک کو دنیا کی سب سے برتر قوم نہیں سمجھتی۔ اسوسی ایٹیڈ پریس اور این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئرس ریسرچ کے مشترکہ سروے کے مطابق صرف ۲۵؍  فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کے تمام ممالک سے بہتر ہے جبکہ تقریباً ۳۰؍ فیصد کا کہنا ہے کہ بعض دوسرے ممالک امریکہ سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

United States of America. Photo: X
ریاستہائے متحدہ امریکہ۔ تصویر: ایکس

ایک نئے قومی سروے نے اس تاثر کو چیلنج کیا ہے کہ امریکی عوام اب بھی متفقہ طور پر اپنے ملک کو دنیا کی سب سے برتر قوم سمجھتی ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اب امریکہ کو دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برابر یا بعض معاملات میں ان سے پیچھے تصور کرنے لگی ہے۔ اسوسی ایٹیڈ پریس اور این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئرس ریسرچ کی جانب سے کرائے گئے سروے میں صرف ایک چوتھائی یعنی ۲۵؍ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ امریکہ دنیا کے تمام ممالک سے بہتر ہے۔ سروے کے مطابق سب سے بڑا گروپ، یعنی ۴۴؍ فیصد افراد، امریکہ کو ’’دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک‘‘ قرار دیتا ہے، لیکن اسے منفرد یا غیر معمولی طور پر برتر نہیں سمجھتا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل کشیدگی:خامنہ ای نےکہا ’’صہیونی حکومت کے چند دن باقی ہیں‘‘

دوسری جانب تقریباً ۳۰؍ فیصد امریکیوں نے کہا کہ دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جو امریکہ سے بہتر ہیں۔ یہ شرح ۲۰۱۶ء میں کیے گئے اسی نوعیت کے سروے میں ۱۹؍ فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس سوچ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نتائج امریکی استثنائیت (American Exceptionalism) کے نظریے پر عوامی اعتماد میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نظریہ طویل عرصے سے امریکی سیاسی اور سماجی شناخت کا اہم حصہ رہا ہے، جس کے مطابق امریکہ اپنے سیاسی نظام، جمہوری اقدار، معیشت اور تاریخی کردار کے باعث دنیا میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ سروے کے مطابق نوجوان نسل میں اس تصور کی حمایت نسبتاً کمزور ہو چکی ہے۔ ۳۰؍ سال سے کم عمر امریکیوں میں ۴۴؍ فیصد نے کہا کہ بعض دوسرے ممالک امریکہ سے بہتر ہیں، جبکہ ۶۰؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح صرف ۲۲؍ فیصد رہی۔

ماہرین کے مطابق یہ فرق اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوان امریکی نسل عالمی موازنوں، معاشی چیلنجز، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے نظام کو زیادہ تنقیدی انداز میں دیکھ رہی ہے۔ سروے نے امریکی خواب (American Dream) کے بارے میں بدلتے ہوئے رویوں کو بھی اجاگر کیا۔ جواب دہندگان کی اکثریت، یعنی ۵۱؍ فیصد، کا کہنا تھا کہ امریکی خواب شاید ماضی میں حقیقت رہا ہو، لیکن آج کے دور میں سخت محنت لازمی طور پر معاشی ترقی اور کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کو سیاسی تقسیم، معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی، رہائشی اخراجات میں اضافے اور سماجی اختلافات جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ سروے میں سیاسی وابستگی کے لحاظ سے بھی واضح فرق سامنے آیا۔ تقریباً نصف ریپبلکن جواب دہندگان نے کہا کہ امریکہ دنیا کے تمام ممالک سے بہتر ہے، جبکہ صرف ۷؍ فیصد ڈیموکریٹک ووٹرز نے اس رائے کی تائید کی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء تفویض

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بڑھتی ہوئی سیاسی قطبیت کی عکاسی کرتے ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکی معاشرے میں نمایاں ہوئی ہے۔ مختلف سیاسی گروہ نہ صرف ملکی مسائل بلکہ امریکہ کی عالمی حیثیت اور مستقبل کے امکانات کو بھی مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکہ دنیا کی بڑی معاشی اور عسکری طاقتوں میں شامل ہے، تاہم سروے یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی سطح پر قومی اعتماد اور امریکی استثنائیت کے روایتی تصورات میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے، خاص طور پر نوجوان نسل اور سیاسی طور پر لبرل حلقوں میں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK