Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اسرائیل کشیدگی:خامنہ ای نےکہا ’’صہیونی حکومت کے چند دن باقی ہیں‘‘

Updated: June 08, 2026, 5:29 PM IST | Tehran

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’متزلزل صہیونی حکومت کے پاس چند دن باقی ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل داغے ہیں اور اس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

Mojtaba Khamenei. Photo: INN
مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں اور سخت بیانات کے تبادلے نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پیر کو ایک سخت بیان میں کہا کہ ’’متزلزل صہیونی حکومت کے پاس چند دن باقی ہیں۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے۔ کشیدگی میں حالیہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایران نے اتوار کی رات شمالی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل بیراج داغے۔ ایرانی کارروائی بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سامنے آئی، جس نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: فلپائن: ۸ء۷؍شدت کا زلزلہ، کئی ممالک میں سونامی وارننگ، انخلاء کے احکامات

اس کے جواب میں اسرائیل نے مغربی اور وسطی ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے۔ ایرانی میڈیا اور حکام کے مطابق دارالحکومت تہران، اصفہان اور تبریز سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اگرچہ نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم حملوں نے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ پیر کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے شہر مشہر میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپنی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں صنعتی کمپلیکس کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے بعد وسطی اور جنوبی اسرائیل کے متعدد شہروں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ شہریوں کو حفاظتی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پیر کو سیکوریٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اجلاس میں اہم وزرا اور سیکوریٹی حکام شرکت کریں گے اور ایران کے خلاف ممکنہ آئندہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: گفتگو میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی دوغلی پالیسی ہے: ایران

موجودہ بحران کی جڑیں رواں سال فروری کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں تک جاتی ہیں، جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں سیکوریٹی خدشات پیدا ہوئے۔ بعد ازاں ۸؍ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، جس سے حالات میں کچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم جنگ بندی کے نفاذ، اس کی شرائط اور بعد میں ہونے والی علاقائی پیش رفت پر اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی دوبارہ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بحران نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK