Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء تفویض

Updated: June 08, 2026, 6:04 PM IST | Stockholm

غزہ میں بچوں کے خلاف مبینہ طور پر مہلک فائرنگ کے واقعات کی تحقیق کرنے والی ڈچ اخبار de Volkskrant کی رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء سے نوازا گیا ہے۔ ’’What the Wounds Tell‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں ۱۵؍ سال سے کم عمر ۱۱۴؍ بچوں کے ایسے کیسز کا جائزہ لیا گیا جنہیں سر یا سینے میں گولی لگی تھی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ میں بچوں کو مبینہ طور پر جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے الزامات پر مبنی ایک تحقیقی رپورٹ کو یورپ کے ممتاز صحافتی اعزاز European Press Prize 2026 سے نوازا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ڈچ اخبار de Volkskrant میں ’’What the Wounds Tell‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، جسے صحافی Maud Effting اور Willem Feenstra نے تیار کیا۔ تحقیق میں ۱۵؍ سال سے کم عمر ۱۱۴؍ فلسطینی بچوں کے ایسے کیسز کا جائزہ لیا گیا جنہیں سر یا سینے میں گولیاں لگی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر بچے یا تو ہلاک ہو گئے یا شدید معذوری کا شکار ہوئے۔ یورپی پریس پرائز نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ غیر معمولی حالات میں کی جانے والی غیر معمولی صحافت ہے۔‘‘ ادارے کے مطابق غزہ تک آزادانہ رسائی انتہائی محدود ہونے کے باوجود صحافیوں نے وہاں کام کرنے والے بین الاقوامی طبی ماہرین کے بیانات، دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر تفصیلی تحقیق کی۔

یہ بھی پڑھئے: فلپائن: ۸ء۷؍شدت کا زلزلہ، کئی ممالک میں سونامی وارننگ، انخلاء کے احکامات

رپورٹ کے مصنفین نے سوچ سمجھ کر ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں پر توجہ مرکوز کی کیونکہ اس عمر کے بچوں کو واضح طور پر نابالغ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ سر یا سینے میں ایک ہی گولی لگنے کے متعدد واقعات نے ان کیسز کو خصوصی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ تحقیق کے لیے صحافیوں نے امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کنیڈا اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ۱۷؍ ڈاکٹروں اور ایک نرس سے گفتگو کی، جنہوں نے اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ کے چھ اسپتالوں اور چار طبی مراکز میں خدمات انجام دی تھیں۔ ان میں سے کئی طبی ماہرین کو سوڈان، افغانستان اور یوکرین جیسے جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل تھا۔

رپورٹ کے مطابق ۱۵؍ ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ انہوں نے ۲۰۲۳ء کے آخر سے ۲۰۲۵ء کے وسط تک مختلف طبی مراکز میں کم از کم ۱۱۴؍ ایسے بچوں کا علاج کیا جنہیں سر یا سینے میں گولی لگی تھی۔ ان ڈاکٹروں میں امریکی ٹراما سرجن فیروز سدھوا بھی شامل تھے، جنہوں نے مارچ ۲۰۲۴ء میں غزہ کے یورپی اسپتال میں اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ اس چھوٹے سے اسپتال میں صرف ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر چار بچے سر میں گولی لگنے کے زخموں کے ساتھ لائے گئے ہوں؟‘‘ رپورٹ کے مطابق اگلے ۱۳؍ دنوں کے دوران انہیں مزید نو ایسے بچوں کا سامنا کرنا پڑا جن کے زخم اسی نوعیت کے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: حوثیوں کی اسرائیلی بحری جہازوں پر مکمل پابندی کی دھمکی، کشیدگی بڑھی

تحقیق میں شامل ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان زخموں کی نوعیت اتفاقی معلوم نہیں ہوتی۔ رپورٹ کے مطابق اخبار کی جانب سے مشورہ کیے گئے فرانزک ماہرین نے رائے دی کہ زخموں کے یکساں انداز سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ سنائپرز یا ڈرونز کی جانب سے کی گئی ہو سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں ان مشاہدات کو طبی اور فرانزک آراء کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یورپی پریس پرائز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ تحقیق نہ صرف صحافتی معیار کی اعلیٰ مثال ہے بلکہ جنگی حالات میں معلومات تک محدود رسائی کے باوجود حقائق جمع کرنے کی ایک نمایاں کوشش بھی ہے۔

واضح رہے کہ یورپی پریس پرائز کو یورپ میں صحافت کے سب سے معتبر اعزازات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ ہر سال مختلف شعبوں میں نمایاں تحقیقاتی، عوامی مفاد اور بین الاقوامی رپورٹنگ کو تسلیم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس سال غزہ سے متعلق اس تحقیق کو انسانی حقوق اور جنگی حالات میں بچوں کے تحفظ کے موضوع پر اہم صحافتی کام قرار دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK