کرنول کی یہ کان نہ صرف آندھرا پردیش کی معیشت کو رفتار دے گی بلکہ ہندوستان کو سونے کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جونّاگیری گولڈ پروجیکٹ کی یہ نجی یونٹ ملک کی پہلی بڑی نجی سونے کی کان ہے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 7:20 PM IST | New Delhi
کرنول کی یہ کان نہ صرف آندھرا پردیش کی معیشت کو رفتار دے گی بلکہ ہندوستان کو سونے کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جونّاگیری گولڈ پروجیکٹ کی یہ نجی یونٹ ملک کی پہلی بڑی نجی سونے کی کان ہے۔
ہندوستان میں سونے کا شوق صدیوں پرانا ہے اور اس وقت ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے سونا استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ہم ہر سال ۸۰۰؍ ٹن سے زیادہ سونا بیرونِ ملک سے درآمد کرتے ہیں۔ سونے کے معاملے میں ملک کو خود کفیل بنانے کی کوششیں کئی برسوں سے جاری ہیں اور اب اس میں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آندھرا پردیش کے ضلع کرنول میں ملک کی پہلی نجی گولڈ مائن مئی میں شروع ہونے جا رہی ہے۔ جیومیسور سروسیز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کی جونّاگیری گولڈ پروجیکٹ ہندوستان کی پہلی بڑے پیمانے کی نجی سونے کی کان ہے۔
اس منصوبے کا پروسیسنگ پلانٹ مئی کے پہلے ہفتے میں مکمل طور پر فعال ہونے والا ہے، جبکہ اس وقت پری کمرشیل آپریشن جاری ہیں۔ آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو سے توقع ہے کہ وہ اس اہم منصوبے کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ ریاست کے محکمہ کان کنی و ارضیات کے پرنسپل سیکریٹری مکیش کمار مینا نے اسے ہندوستان کی سونے کی کان کنی کی وسیع خواہشات کے لیے ایک ’’تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا ہے۔
۵ء۴۲؍ ٹن سونے کا اندازہ:ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، جونّاگیری، ایرّاگوڈی اور پاگیدی رائی گاؤں میں۵۹۸؍ ہیکٹر کے علاقے میں۱ء۱۳؍ ٹن تصدیق شدہ سونے کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ۵ء۴۲؍ٹن سونا ہونے کا امکان ہے۔ جب یہ کان اپنی مکمل صلاحیت پر پہنچے گی تو یہاں سے ہر سال تقریباً۱۰۰۰؍ کلوگرام خالص سونا نکالا جا سکے گا اور یہ عمل اگلے ۱۵؍ برس تک جاری رہنے کی امید ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایٹلیٹیکو میڈرڈ کا خواب ٹوٹ گیا، ریال سوسائڈاڈ نے فائنل میں ہراکرٹرافی چھین لی
۴۰۰؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری: اس منصوبے میں ۴۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جسے تروینی ارتھ موورز اینڈ انفرا اور ڈیکن گولڈ جیسی بڑی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ اکیلے سونے کی درآمد کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا، لیکن یہ ملکی پیداوار بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔
ہُٹّی گولڈ مائنز جیسے سرکاری پلانٹس سالانہ صرف ۵ء۱؍ ٹن سونا پیدا کر پاتے ہیں، جبکہ مشہور کولار گولڈ فیلڈز (کے جی ایف ) ۲۰۰۰ء میں بند ہو چکے ہیں۔ ایسے میں جونّاگیری جیسی نجی کانوں کی کامیابی ایک مثبت اشارہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ہیرا پھیری ۳‘‘ قانونی تنازع میں پھنسی، اکشے کمار نے تاخیر کی تصدیق کی
جدید ٹیکنالوجی سے کان کنی: جونّاگیری گولڈ فیلڈز میں اس وقت جدید مشینوں اور کنٹرولڈ دھماکوں کے ذریعے کان کنی کی جا رہی ہے۔ صرف ۱۳؍ مہینوں کے ریکارڈ وقت میں اس پروسیسنگ پلانٹ کو تیار کیا گیا ہے۔ تروینی ارتھ موورز کے منیجنگ ڈائریکٹر بی پربھاکرن کے مطابق، یہ منصوبہ بھارت میں ’’ذمہ دار اور مسابقتی کان کنی‘‘ کا عالمی ماڈل پیش کرتا ہے۔ جیومیسور کے ڈائریکٹر ہنوما پرساد مودالی کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے مستقبل میں دیگر اہم معدنیات کے شعبے میں بھی نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔