Updated: April 19, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
ایران جنگ عالمی معیشت میں سست روی: ریزرو بینک اور دیگر مرکزی بینکوں کے لیے یہ صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ اگر وہ ترقی کو بڑھانے کے لیے شرحِ سود کم کرتے ہیں تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے اور اگر وہ مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرحِ سود بڑھاتے ہیں تو معاشی ترقی کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے۔
اسٹیگفلیشن۔ تصویر:آئی این این
ایران جنگ شروع ہوئے سات ہفتے گزر چکے ہیں اور امن کے حوالے سے ابھی بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایسے میں پوری دنیا کے سامنے ایک بڑا سوال ہے: کیا عالمی معیشت اسٹیگفلیشن کی لپیٹ میں آ رہی ہے؟ دراصل آنے والا ہفتہ عالمی معیشت کے لیے بہت اہم ہونے والا ہے کیونکہ کئی بڑے ممالک کے معاشی اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔ ان اعداد و شمار سے ہمیں عالمی معیشت پر جنگ کے حقیقی اثرات کا اندازہ ہوگا۔
اسٹیگفلیشن کیا ہے جس سے ماہرین خوفزدہ ہیں؟
اسٹیگفلیشن معیشت کی ایک خطرناک حالت ہے جس میں دو چیزیں بیک وقت ہوتی ہیں: سست شرحِ نمو اور بے قابو مہنگائی۔ اس میں جی ڈی پی اور صنعتی پیداوار کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، جبکہ ضروری اشیاء اور ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہتی ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ۱۹۷۰ء کی دہائی جیسا دور دوبارہ واپس آ سکتا ہے جس نے اس وقت پوری دنیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
بحران کی اصل جڑ کیا ہے؟
اس معاشی دباؤ کے پیچھے سب سے بڑی وجہ توانائی اور خام تیل ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے نقل و حمل اور فیکٹریوں میں پیداوار کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ امریکہ جیسے ممالک میں ریٹیل فروخت کے اعداد و شمار تو بڑھ رہے ہیں، لیکن اس کی وجہ زیادہ طلب نہیں بلکہ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ لوگ اب دیگر ضروری اشیاء پر خرچ کم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رتوراج گائیکواڑ بہت دباؤ میں ہیں: روی چندرن اشون
آئی ایم ایف کی کیا وارننگ ہے؟
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق، جنگ کا معاشی نقصان بڑی حد تک ’بیکڈ اِن‘ یعنی پہلے ہی ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ چاہے تنازع آج ہی ختم ہو جائے، بحالی میں طویل وقت لگے گا۔ اب دنیا کو ’مستقل غیر یقینی صورتحال‘ کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:۸؍ گھنٹے کی شفٹ : دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کے کام کرنے کے طریقے میں بڑا فرق
مرکزی بینکوں کے سامنے ’ادھر کنواں، اُدھر کھائی‘
ریزرو بینک اور دیگر مرکزی بینکوں کے لیے یہ صورتحال نہایت پیچیدہ ہے۔ اگر وہ ترقی بڑھانے کے لیے شرحِ سود کم کرتے ہیں تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، اور اگر وہ مہنگائی کو روکنے کے لیے شرحِ سود بڑھاتے ہیں تو معاشی ترقی مزید سست ہو سکتی ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے یورپی ممالک میں کاروباری سرگرمی (PMI) میں کمی کے اشارے مل رہے ہیں، جس سے وہاں کساد بازاری کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔