جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نےمتعدد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، یہ میزائل تجربے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے جنوبی کوریا کے دورے کے بعد کیے گئے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 9:00 PM IST | Seoul
جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نےمتعدد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، یہ میزائل تجربے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے جنوبی کوریا کے دورے کے بعد کیے گئے۔
جنوبی کوریا کے مطابق، شمالی کوریا نے اتوار کی صبح سویرے متعدد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جو جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر کی جانب داغے گئے۔جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق یہ تجربے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چھ بج کر ۱۰؍ منٹ پر شمالی کوریا کے مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہی شہر سنپو کے قریب شروع ہوئے۔بعد ازاں امریکہ اور جاپان نے بھی ان تجربوں کی تصدیق کی ہے۔جبکہ سیول میں حکام کا کہنا ہے کہ میزائلوں کی تفصیلی خصوصیات کا جنوبی کوریااور امریکی انٹیلیجنس حکام تجزیہ کر رہے ہیں۔تاہم جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہ وہ کسی بھی اشتعال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز پر دوبارہ کنٹرول قائم ، ٹرمپ کا ’’بلیک میل ‘‘کے خلاف انتباہ
دریں اثناءجاپان کے ادارے کے مطابق میزائلوں نے تقریباً۱۴۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق سنپو میں شمالی کوریا کا آبدوز اڈہ ہونے کے باعث جنوبی کوریا یہ بھی جانچ رہا ہے کہ آیا زمینی میزائلوں کے علاوہ آبدوز سے داغے جانے والے میزائل بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ یہ تجربے اس وقت ہوئے جب اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کے سربراہ نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے شمالی کوریا سے سفارت کاری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ نگراں ادارے کے چیف رافیل گروسی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حالات کے ساتھ کوریا پر کشیدگی کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔جبکہ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے ان تجربوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی ’’واضح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔علاوہ ازیں جاپان کے وزیر دفاع نے کہا کہ وہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر ہر صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔اس کے علاوہ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے امریکی اہلکاروں یا علاقے کو کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔