Updated: September 10, 2026, 11:15 AM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار امیتابھ بچن ایک بار پھر مقبول کوئز شو’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کے سیزن ۱۸؍کی میزبانی کر رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ شو کی میزبانی ان کے لیے صرف سوالات، جوش اور انعامی رقم تک محدود نہیں رہی۔ بگ بی نے انکشاف کیا ہے کہ بعض امیدواروں کی زندگی کی انتہائی تکلیف دہ اور سنگین کہانیاں سن کر ان کے لیے شو کی میزبانی جاری رکھنا جذباتی طور پر مشکل ہوجاتا ہے۔
امیتابھ بچن۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار امیتابھ بچن ایک بار پھر مقبول کوئز شو’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ (کے بی سی) کے سیزن ۱۸؍کی میزبانی کر رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ شو کی میزبانی ان کے لیے صرف سوالات، جوش اور انعامی رقم تک محدود نہیں رہی۔ بگ بی نے انکشاف کیا ہے کہ بعض امیدواروں کی زندگی کی انتہائی تکلیف دہ اور سنگین کہانیاں سن کر ان کے لیے شو کی میزبانی جاری رکھنا جذباتی طور پر مشکل ہوجاتا ہے۔
امیتابھ بچن نے اپنے ذاتی بلاگ پرکے بی سی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ امیدوار اپنے ساتھ انتہائی سنگین ذاتی مسائل اور مشکلات کی کہانیاں لے کر آتے ہیں۔ ان کی زندگی کے حالات سن کر صرف جذبات پر قابو رکھنا ہی مشکل نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد پروگرام کی میزبانی جاری رکھنا بھی ان کے لیے آسان نہیں رہتا۔ انہوں نے اس تجربے کو ’’دل توڑ دینے والا‘‘ قرار دیا۔ امیتابھ نے لکھا کہ بعض امیدواروں کی ذاتی کہانیاں اتنی گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہیں کہ ان کے جذبات کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان امیدواروں یا ان کی کہانیوں کی مزید تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا، کیونکہ ان کے مطابق ایسا کرنے سے شو کے ایک میزبان کے طور پر ان کی ذمہ داری اور پروگرام کی نوعیت متاثر ہوسکتی ہے۔
امیتابھ بچن گزشتہ ۲۵؍ برس سے زائد عرصے سے ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس دوران شو نے ہندوستانی ٹیلی ویژن پر ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ پروگرام میں جہاں امیدوار مشکل سوالات کے جوابات دے کر بڑی انعامی رقم جیتنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں ان کی ذاتی زندگی، جدوجہد اور خواب بھی ناظرین کے سامنے آتے ہیں۔ بگ بی اس سے قبل بھی بتا چکے ہیں کہ کے بی سی کی میزبانی کے دوران وہ ایسے عام لوگوں سے ملتے ہیں جن کی زندگی چند لمحوں میں بدل جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی تھی کہ امیدواروں کو اپنے خواب پورے کرتے دیکھنا اس شو کے سب سے جذباتی پہلوؤں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پینیلوپ کروز اور جیویر بارڈیم کی ’’بَنکر‘‘ کی وینس فلم فیسٹیول میں زبردست پزیرائی
کے بی سی کے ۱۸؍ویں سیزن کی تھیم ’’سوچنا پڑے گا‘‘ ہے، جس میں تیزی سے جواب دینے کے بجائے سوال کو سمجھ کر سوچنے اور درست فیصلہ کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ شو کے پرومو میں بھی امیتابھ بچن نے یہی پیغام دیا ہے کہ زندگی میں پہلا جواب ہمیشہ درست نہیں ہوتا، اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے رک کر سوچنا ضروری ہے۔ موجودہ سیزن میں بھی کئی امیدوار اپنی جدوجہد اور ذاتی مشکلات کی کہانیاں لے کر ہاٹ سیٹ تک پہنچ رہے ہیں۔ حال ہی میں چھتیس گڑھ کے استاد اور کسان درگا پرساد ساہی نے شو میں اپنی ۱۰؍ لاکھ روپے کی جوئے سے متعلق قرض کی کہانی بیان کی اور بتایا کہ وہ جیتی ہوئی رقم سے قرض چکانا چاہتے ہیں۔ وہ ۵ء۱۲؍ لاکھ روپے جیتنے کے بعد ۲۵؍ لاکھ روپے کے سوال پر رک گئے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان جونیئر ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں
اسی طرح ممبئی کی امیدوار روچیتا ادھل راؤ نے بھی کے بی سی ۱۸؍میں ۵۰؍ لاکھ روپے جیتے تھے۔ ان کی زندگی اور مالی مشکلات کی کہانی نے شو کے انسانی پہلو کو نمایاں کیا۔ امیتابھ بچن کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کےبی سی کی میزبانی ان کے لیے محض ایک ٹیلی ویژن پروگرام کی ذمہ داری نہیں بلکہ لوگوں کی حقیقی زندگیوں، ان کے دکھ، جدوجہد اور امیدوں سے براہ راست جڑنے کا تجربہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مرتبہ امیدواروں کی کہانیاں بگ بی کو اندر تک متاثر کرتی ہیں اور شو کی چمک دمک کے پیچھے موجود انسانی جذبات انہیں ’دل توڑ دینے والا تجربہ‘ محسوس ہوتے ہیں۔