بالی ووڈ کے عظیم اداکارامیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن کا رشتہ ہمیشہ ہی مداحوں اور فلمی دنیا کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی اداکاری کے ذریعے فلم انڈسٹری میں الگ شناخت بنائی ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 7:06 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ کے عظیم اداکارامیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن کا رشتہ ہمیشہ ہی مداحوں اور فلمی دنیا کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی اداکاری کے ذریعے فلم انڈسٹری میں الگ شناخت بنائی ہے۔
بالی ووڈ کے عظیم اداکارامیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن کا رشتہ ہمیشہ ہی مداحوں اور فلمی دنیا کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی اداکاری کے ذریعے فلم انڈسٹری میں الگ شناخت بنائی ہے اور کئی مواقع پر ایک دوسرے کے کام، سوچ اور زندگی کے حوالے سے کھل کر بات بھی کی ہے۔ اب امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں ابھیشیک کے ساتھ اپنے رشتے اور دو نسلوں کے درمیان سوچ کے فرق پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ والد اور بیٹے کے خیالات ایک جیسے ہونا ضروری نہیں۔ دونوں کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز، سوچنے کا طریقہ اور راستہ مختلف ہوسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی آخری منزل ایک ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اسی خیال کو شعری انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھا ’’پتا پتر دونوں رہے، ایک منچ پر بیٹھیں، وچار الگ الگ ہو چاہے، منزل کے ہی اینٹھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سمے رائنا نے آیوشمان کھرانہ سے کہا، ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘ کیلئے ری فنڈ ہی چاہئے
ان کے اس پیغام سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی خاندان اور ایک ہی رشتے میں ہونے کے باوجود دو نسلوں کے خیالات کا مختلف ہونا فطری ہے۔ تاہم اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام، سمجھ بوجھ اور رشتے کی اہمیت برقرار رہ سکتی ہے۔ امیتابھ نے نئی نسل کے تئیں اپنے احترام کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ خیالات اور راستے مختلف ہونے کے باوجود مقصد یا منزل ایک رہ سکتی ہے۔ امیتابھ بچن نے مزید کہا کہ وہ نئی نسل کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق زندگی میں مختلف راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں، لیکن ہر راستے کا مقصد ایسی منزل تک پہنچنا ہونا چاہیے جو سب کے لیے بہتر اور فائدہ مند ہو۔ ان کے خیال میں اختلافِ فکر کو رشتوں میں دوری کی وجہ بننے کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔
اپنے اور ابھیشیک کے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے امیتابھ نے اس رشتے کو ایک دوسرے کو جاننے، سمجھنے اور دریافت کرنے کا سفر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے رشتے میں ایک ایسی منزل تلاش کرنے کی کوشش رہی ہے جو سب کے لیے بہتر ہو۔ اس کے ساتھ انہوں نے محبت اور احترام کو اس تعلق کا اہم حصہ قرار دیا اور اپنے خیرخواہوں کے پیار کا بھی ذکر کیا۔ امیتابھ بچن ان دنوں ٹیلی ویژن کے مقبول کوئز شو ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ (کے بی سی)کی میزبانی کر رہے ہیں۔ شو میں شرکا سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے جاتے ہیں اور انہیں متعدد اختیارات میں سے درست جواب منتخب کرنا ہوتا ہے۔ کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہونے کی صورت میں شرکا کو مختلف لائف لائنز بھی استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’السلام علیکم‘‘: کرسٹیانو رونالڈو جونیئر نے عربی بول کر مداحوں کو حیران کردیا
امیتابھ بچن کی تازہ تحریر نے ایک بار پھر والد اور بیٹے کے رشتے میں موجود محبت، احترام اور مختلف خیالات کے باوجود مشترکہ مقصد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے پیغام کا مرکزی خیال یہی ہے کہ نسلوں کے درمیان سوچ کا فرق فطری ہوسکتا ہے، لیکن باہمی احترام اور محبت رشتے کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔