• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانسسکا البانیز کی حمایت کی، فرانس کی جانب سے استعفیٰ کے مطالبہ کی مذمت کی

Updated: February 13, 2026, 8:06 PM IST | London

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے البانیز کے کام کی ستائش کی اور بالخصوص بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور غزہ میں نسل کشی کو ممکن بنانے والے نظام کے مالی، تکنیکی اور فوجی پہلوؤں کو نمایاں کرنے کی ان کی کوششوں کے لیے تنظیم کی حمایت کا اعادہ کیا۔

Francesca Albanese. Photo: X
فرانسسکا البانیز۔ تصویر: ایکس

فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نوئیل بیروٹ کی جانب سے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی مندوب فرانسسکا البانیز کے اسرائیل اور غزہ کے بارے میں تبصروں پر تنقید اور ان کے استعفیٰ کے مطالبہ کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے البانیز کا عوامی سطح پر دفاع کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے جمعرات کو بیان دیا کہ تنظیم البانیز سمیت اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے ”اختیار اور اہم کام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔“ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کالمارڈ نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے تحت بااختیار افراد کی آزادی ”حتمی اور ریاستوں کی مداخلت سے محفوظ“ ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے میکانزم کے موثر طریقے سے کام کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

کالمارڈ نے خبردار کیا کہ آزاد ماہرین کی باتوں کو ”غلط رنگ دینے، انہیں بدنام کرنے یا ان پر سیاسی دباؤ ڈالنے“ کی کوششوں سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے البانیز کے کام کی ستائش کی اور بالخصوص بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور غزہ میں نسل کشی کو ممکن بنانے والے نظام کے مالی، تکنیکی اور فوجی پہلوؤں کو نمایاں کرنے کی ان کی کوششوں کے لیے ایمنسٹی کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر نے کا خدشہ

واضح رہے کہ بیروٹ نے فرانس میں ایک پارلیمانی سیشن کے دوران البانیز پر کڑی تنقید کی اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک فورم کے دوران ان کے حالیہ تبصروں کو ”اشتعال انگیز اور قابلِ مذمت“ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ آزاد ماہر کے طور پر نہیں بلکہ ”سیاسی کارکن کے طور پر نفرت انگیز بیان بازی کو فروغ دے رہی ہیں۔“ بیروٹ نے مزید کہا کہ فرانس ۲۳ فروری کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے آئندہ اجلاس میں باضابطہ طور پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرے گا۔

’ایسوسی ایشن آف لائرز فار دی ریسپیکٹ آف انٹرنیشنل لاء‘ (جے یو آر ڈی آئی) نے بھی بیروٹ کے تبصروں پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔ گروپ نے اعلان کیا کہ اس نے پیرس کے پبلک پراسیکیوٹر کے پاس رپورٹ درج کرائی ہے، جس میں بیروٹ کے بیان کو غلط معلومات پھیلانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ’جے یو آر ڈی آئی‘ کا کہنا ہے کہ فرانسیسی وزیر کے بیانات اقوامِ متحدہ کے میکانزم کی آزادی کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس سے البانیز کے قانونی تجزیہ کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملوں میں غزہ کے ۹۰؍ فیصد اسکول تباہ: اقوام متحدہ

’جے یو آر ڈی آئی‘ کے مطابق البانیز کے بیانات کسی مخصوص قوم یا لوگوں کو نشانہ بنانے کے بجائے سیاسی، اقتصادی اور قانونی نظاموں پر مرکوز تھے۔ گروپ نے خبردار کیا کہ ان کے ریمارکس کو عوامی طور پر نفرت انگیز تقریر قرار دینا انہیں مزید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے اور بین الاقوامی قانون و کثیر الجہتی کے حوالے سے فرانس کے بیان کردہ عزم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK