ڈی ایڈ میں داخلہ لینے والے امیدواروں کی تعداد میں تشویشناک کمی

Updated: September 16, 2020, 8:08 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

ٹی ای ٹی کی شرط اور ملازمت کے کم مواقع کے سبب دلچسپی میں کمی، کئی ڈی ایڈ کالج بند ہوچکے ہیں اورکئی بندہونےکے دہانے پرہیں،امسال سب سے کم درخواستیں موصول ہوئیں

School - Pic : INN
اسکول ۔ تصویر : آئی این این

ٹیچر کیلئے ایلی جیبلیٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) سرٹیفکیٹ کی شرط اور ملازمت کے کم مواقع سے ڈی ایڈ میں داخلہ لینےوالے امیدواروںکی تعداد میں گزشتہ ۱۰؍سال سےمتواتر کمی آرہی ہے۔ ممبئی سمیت پوری ریاست میں ڈی ایڈ کیلئے ۶۰؍ہزار سیٹیں دستیاب ہیں مگرامسال  صرف ۱۴؍ ہزار ۶۸۱؍امیدواروںنے داخلے کیلئے درخواستیں دی ہیں ۔ان میں سے ۹؍ہزار ۷۲۷؍ درخواستیں قبول کی گئی ہیں  جبکہ باقی درخواستیں تکنیکی کمیوں کے سبب مسترد کردی گئی ہیں۔ ۵۰؍ہزار سے زیادہ سیٹ خالی پڑی ہیں۔گزشتہ ۵؍ سال میں سب سے کم درخواستیں امسال موصول ہوئی ہیں۔
  ہرسال جون جولائی کے مہینے میں ڈی ایڈ کیلئے داخلے کی کارروائی کا آغاز کیاجاتاہے مگر امسال کووڈ۱۹؍ کی وجہ سے اگست میں یہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔داخلے کی آخری تاریخ ختم ہونے پر بھی  درخواست دینےوالوںمیں گرم جوشی نہیں دکھائی دی۔اس  کے بعد داخلے کی تاریخ میں ۸؍ستمبر تک کی توسیع کی گئی تھی تاکہ کوئی امیدوار داخلہ لینا چاہے تو وہ درخواست دے سکتاہے۔اس توسیع کابھی کوئی اثر نہیں دکھائی دیا۔
 واضح رہےکہ ممبئی سمیت ریاست کے ۸۵۰؍ڈی ایڈ کالجوںمیں ۶۰؍ہزار سیٹیں دستیاب  ہیں ۔ کسی دور میں ۶۰؍ہزار سیٹوں کیلئے لاکھوں درخواستیں موصول ہوتی تھیں ۔ ۸۰؍تا ۹۰؍فیصد مارکس حاصل کرنے والے امیدوارو ں کو سیٹیں دی جاتی تھیں  اور ہزاروں امیدواروں داخلے سے محروم رہتے تھے۔ مخصوص کوٹے میں ڈونیشن کی مدد سے داخلہ لینےکی کوشش کی جاتی تھی ۔لیکن آج یہ حال ہےکہ ۶۰؍ہزار سیٹوں کیلئے صرف ۱۴؍ ہزار ۶۸۱؍ درخواستیں آئی ہیں ۔ ان میں سے ۹؍ ۷۲۷؍ امیدواروں کی درخواستوں کو قبول کیا گیا ہے   جبکہ ۳۶؍ درخواستیں مسترد کردی گئی  ہیں اور ۷۹۵؍ درخواستوں کو تکنیکی کمیوں کی وجہ سے قبول نہیں کیاگیاہے۔ 
 ۲۰۱۷ء میں ۲۰؍ہزار ۲۰۴؍ ، ۲۰۱۸ء میں  ۱۷؍ہزار ۸۷۵؍، اور ۲۰۱۹ءمیں ۱۷؍ہزار ۹۲؍امیدواروں نے داخلے لئے تھے جبکہ امسال ۱۰؍ہزار سے کم  داخلے متوقع ہیں۔ممبئی سے ۵۲۸؍ امیدواروںنے داخلے کیلئے فارم پُرکئے ہیں۔ 
  آر سی ماہم ڈی ایڈ کالج کے سابق پرنسپل خان اخلاق احمد نے کہاکہ ’’ جس تیزی سے ڈی ایڈ کالجوںمیں داخلے کی شرح کم ہورہی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ اس کی وجہ سے کئی ڈی ایڈ کالج بند ہوچکے ہیں اورمتعدد ہونےوالے ہیں ۔ ڈی ایڈ میں داخلہ نہ لینےکی یوں تو کئی وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ یہ ہےکہ اس شعبہ میں اب کوئی مستقبل نہیں دکھائی دے رہاہے ۔ اگرکوئی امیدوار ڈی ایڈ کربھی لیتا ہے ، تو سب سے پہلے اسے ٹی ای ٹی کےدشوارکن مرحلے سے گزرناہے ۔ بعدازیں اگر ملازمت مل بھی جاتی ہے تو ۳؍سال سے تک معمولی رقم پر شکشن سیوک کی ذمہ داری ادا کرنی ہے ۔ اس کےبعد بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اسے باضابطہ طورپر ٹیچر کی ملازمت مل جائے گی۔ ان بنیاد ی وجوہات  کے سبب امیدوارڈی ایڈ کو بائے بائے کرنے پر مجبورہیں  ۔‘‘
  اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے سیکریٹری ساجد نثار نےکہاکہ ’’ ٹی ای ٹی پاس ہونےکی شرط اور ٹی ای ٹی کلیئر کرنےکےباوجود ملازمت نہ ملنے کی  بڑھتی شکایتوںکو دیکھ کر اب ٹیچربننے کا رجحان تیزی سےکم ہورہاہے ۔جن کے پاس ایم بی بی ایس میں داخلہ لینےکیلئے پیسے نہیں ہوتے تھے ان سب کی پہلی ترجیح ڈی ایڈ ہوا کرتی تھی ۔امیدوار  ڈی ایڈ کے ایڈمیشن کیلئے خوشی خوشی  لاکھوں روپے ڈونیشن دیتے تھے لیکن اب تو بغیر ڈونیشن کے آسانی سے ایڈمیشن ہورہے ہیں اس کے باوجود کم ہی لوگ ڈی ایڈ میں ایڈمیشن لینا چاہتے ہیں۔    اس کی سب سے بڑی وجہ ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ کا لازمی قرار دیاجاناہے ۔ ٹی ای ٹی امتحان کو اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہےکہ کم ہی امیدوار یہ امتحان پاس کرتےہیں۔ خوش قسمتی سے جو پاس ہوجاتےہیں انہیں ملازمت کے موقع کم ہونے سے نوکری نہیں ملتی ہے ۔ جس کی واضح مثال یہ کہ ہزاروں ٹی ای ٹی یافتہ امیدوار حکومت کی غلط پالیسیوںکی وجہ سے اب تک ملازمت سےمحروم ہیں ۔ ان وجوہات کی وجہ سے اب لوگوںنے ڈی ایڈ کی جانب سے توجہ ہٹا دی ہے ۔ حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK