میری عمر ۱۸؍ سال ہے۔ میں اس سال کے نیٹ امتحان میں شریک ہوئی تھی جس کیلئے بارہویں سے میری تیاری شروع ہوچکی تھی۔ پڑھائی ہی شروع نہیں کی مَیں نے سوشل میڈیا کو الوداع کہہ دیا تھا۔ سہیلیوں اور دوستوں سے بات چیت بند کر دی تھی۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 2:38 AM IST | Mumbai
میری عمر ۱۸؍ سال ہے۔ میں اس سال کے نیٹ امتحان میں شریک ہوئی تھی جس کیلئے بارہویں سے میری تیاری شروع ہوچکی تھی۔ پڑھائی ہی شروع نہیں کی مَیں نے سوشل میڈیا کو الوداع کہہ دیا تھا۔ سہیلیوں اور دوستوں سے بات چیت بند کر دی تھی۔
میری عمر ۱۸؍ سال ہے۔ میں اس سال کے نیٹ امتحان میں شریک ہوئی تھی جس کیلئے بارہویں سے میری تیاری شروع ہوچکی تھی۔ پڑھائی ہی شروع نہیں کی مَیں نے سوشل میڈیا کو الوداع کہہ دیا تھا۔ سہیلیوں اور دوستوں سے بات چیت بند کر دی تھی۔ کسی پارٹی میں شریک نہیں ہوئی۔ صحیح طریقے سے بہنوں بھائیوں سے ملاقات بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اتنی قربانیاں کیوں دیں میں نے؟ ڈاکٹر بننے کیلئے۔ اپنا کریئر بنانے کیلئے۔
امتحان قریب آنے لگا تو میری بے چینی بڑھنے لگی جو کہ عموماً طلبہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب امتحان میں دس بارہ دن رہ گئے تب این ٹی اے کی دھمکی آمیز نوٹس میری نظر سے گزری۔ لکھا تھا: ’’یہ اسکول کا امتحان نہیں ہے۔ یہ قومی سطح کا چھٹنی (فلٹر یشن) کا امتحان ہے۔‘‘بلاشبہ یہ اسکول کا امتحان نہیں تھا کیونکہ اسکول میں پیپر لیک نہیں ہوتا تھا۔ لیکن طلبہ سے یہ کہنا کہ’’ ہم، آپ سے دس قدم آگے ہیں‘‘ شرم کی بات ہے۔ بلاشبہ، امتحان گاہ میں داخلے سے قبل ہر طالب علم کی تلاشی لینے میں آپ دس قدم آگے تھے۔ وہاں سیکوریٹی کی کئی تہیں تھیں۔ مگر شاید وہ امتحان سے پہلے نہیں تھیں۔ جب میں اپنے سینٹر پر پہنچی، پتہ چلا کہ ہم پانی کی بوتل بھی، جس کے آر پار نظر آتا ہے، اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ میں نے سوچا کوئی بات نہیں، اپنے خواب کیلئے یہ قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔ پھر بھی، گرمی کی شدت میں ہماری حالت قابل رحم تھی۔ طالب علموں کی تلاشی کے مناظر تو میں بھول ہی نہیں سکتی۔ کسی طرح کی چیٹنگ (نقل) نہ ہوسکے اس کیلئے طالبات کے بال کھلوائے گئے، وہاں موجود عملے کے لوگوں نے ان کے بالوں میں انگلیاں ڈال کر اطمینان کیا کہ کوئی چیز چھپائی نہیں گئی ہے۔ ٹی شرٹ یا پتلون میں جیب تھاتو اسے کاٹ دیا گیا۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم ہی پرچہ لیک کرنے والے تھے۔ اس کے باوجود مجھے یقین تھا کہ اس سال پرچہ لیک نہیں ہوگا۔ کئی وعدوں اور وارننگز کے سبب میرا اعتماد بڑھ گیا تھا۔
ہماری لڑائی نیٹ کے سوالات سے نہیں پورے سسٹم سے ہے جو کسی کے سامنے نہیں جھکتا مگر ایک سازش کے سامنے کچی دیوار کی طرح بھربھرا کر گر پڑتا ہے۔ ٹویٹر پر این ٹی اے سے سولات کئے جارہے تھے مگر ہمیں یقین تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ افسوس کہ یہ یقین، یہ اعتماد زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا۔’’ہم دس قدم آگے ہیں‘‘ کے سسٹم نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ ٹھیک ہے، میں دوبارہ امتحان بھی دے لوں گی، امتحان گاہ پر تلاشی کی ہزیمت سے بھی گزر جاؤں گی مگر آپ کیا کررہے ہیں؟ کیا آپ سوری تک نہیں کہہ سکتے؟ کیا صرف اتنا کہہ دینا کہ پرچہ بڑے پیمانے پر لیک ہوا اس لئے امتحان دوبارہ ہوگا کافی ہے؟ کیا طلبہ سے معافی تک نہیں مانگی جا سکتی؟ کیا وہ اس کے حقدار نہیں ہیں؟