وسیع تر بنچ سے رجوع کا امکان ، خالد سیفی کی درخواست ضمانت پر شنوائی کے دوران اشارہ دیاگیا۔
عمرخالد۔ تصویر:آئی این این
عمرخالد اور شرجیل امام کی ضمانت کے تعلق سے پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس اُجل بھوئیاں اور جسٹس ناگرتنا کی بنچ نے جو موقف اختیار کیا ، اس سے دہلی پولیس فکرمند ہو گئی ہے اوراس نے اس معاملے میں وسیع تر بنچ سے رجوع کا اشارہ دیا ہے۔ منگل کو سپریم کورٹ میں خالد سیفی ا ور تسلیم احمد کی ضمانت کی درخواست پر شنوائی کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے مذکورہ فیصلے کا حوالہ دیا اور ’’قانون کی درست تشریح نہ ‘‘ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ۔
ای ویس راجو نےکہا کہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت پر عائد قانونی رکاوٹوں کو طویل قید وبند اور مقدمے میں تاخیر کی بنیاد پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اس سوال پر سپریم کورٹ کی دو ہم مرتبہ بنچوں کے ’’متضاد‘‘ فیصلوں کے پیشِ نظر اس معاملے میں کسی بڑی آئینی بنچ کی رائے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے فیصلے میں سپریم کورٹ کی بنچ نے یو اے پی اے کیس میں بھی سماعت میں تاخیر کو ضمانت کا جواز تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی ’’ضمانت معمول اور جیل استثنیٰ‘‘ کے اصول کا اطلاق ہوگا۔سرکاری وکیل نے یو اے پی اے کی دفعہ ۴۳؍ڈی (۵) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’بادی النظر میں الزام صحیح ‘‘ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خالد سیفی کو عبوری ضمانت دینے کی مخالفت نہیں کر تے لیکن ’’متضاد‘‘ فیصلوں کے پیشِ نظر اس وسیع قانونی سوال پر کسی بڑی بنچ کے ذریعے غور ضروری ہے۔کہا جارہا ہے کہ دہلی پولیس نے اپنی فضیحت سے بچنے کیلئے یہ موقف اختیار کیا ہے۔