بھیونڈی میں سردی، زکام اورکھانسی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ

Updated: January 15, 2022, 8:18 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

: یہاں کورونا سے متاثر مریضوں کے ساتھ ہی وائرل فیور کے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر کی نجی ڈسپنسریوں میںعام دنوں کے مقابلے نزلہ،زکام ،بدن درداور کھانسی جیسے وائرل فیور کے مریضوں کی تعداد میں ۷؍سے۸؍ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

The number of cold, cough and flu patients in dispensaries and hospitals has increased dramatically. (File photo)
ڈسپنسری اور اسپتالوں میںسردی ،کھانسی اور زکام کے مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔(فائل فوٹو)

: یہاں کورونا سے متاثر مریضوں کے ساتھ ہی وائرل فیور کے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر کی نجی ڈسپنسریوں میںعام دنوں کے مقابلے نزلہ،زکام ،بدن درداور کھانسی جیسے وائرل فیور کے مریضوں کی تعداد میں ۷؍سے۸؍ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ان دنوں بیشتر گھروں میں لوگ  سردی، کھانسی اور بخار کی شکایت سے پریشان ہیں۔ شہر کے کئی ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سردی سے ہونے والی بیماریوں سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ کھانے پینے کی ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کیا جائے ٹھنڈی ہوا سے بچیں، بالخصوص علی الصباح گھر سے باہر نہ نکلیں،معمر شہری خاص طور پر دھوپ نکلنے کے بعد ہی گھر سے نکلیںکیونکہ صبح جو دھندہوتی ہے اس میں آلودگی ہوتی ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
  سماجی تنظیم آپریشن مکت بھیونڈی کے صدر ڈاکٹر شفیق صدیقی نے بتایا کہ ’’ شہر میںان دنوں سب سے زیادہ مریض وائرل فیور کے ہیں۔موسم کی تبدیلی سے نز لہ، کھانسی، فلو، بدن درد اور بخار وغیرہ کے مریضوںکی تعدا دمیں اضافہ ہواہے۔ میری کلینک میں ان امراض میں مبتلا مریض زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وائرل فیور کے مریض کو مکمل صحت یابی کیلئے ۴؍سے ۵؍دن تک تواتر سے اپنا علاج کروانا چاہئے جس کے بعد مریض صحت یاب ہوجاتا ہے۔انہوں نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر ختیار کرنے کا مشورہ دیا ۔
 کھجور پورہ علاقے میں مطب کرنے والے ڈاکٹر ابو طالب انصاری نے بتایا کہ’’ صنعتی شہر میں عام طور پر ۲۵؍دسمبر کے بعد سے مریضوں کی تعداد میں کمی ہونے لگتی ہے۔گلابی ٹھنڈی میں بیماریاں برائے نام رہتی ہیں لیکن اس سال معاملہ بالکل اس کے برعکس تھا،دسمبر کے آخری ہفتے سے جنوری کے دوسرے ہفتے کے درمیان  سردی زکام ، نزلہ اور کھانسی کے مریضوں کی تعدادمیں بے تحاشہ اضافہ درج کیا گیا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ’’مریضوں میں سوکھی کھانسی کی شکایت والے زیادہ ہیں۔ سوکھی کھانسی سے گلے میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے علاج کیلئے آ نیوالے مریض گلے میں درد اور روکھے پن کی شکایت کرتے ہیں۔ تاہم اچھی بات یہ  ہےکہ مریض چند خوراک کے بعد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔‘‘
   اعظمی نگر میں مطب کرنے والے ڈاکٹر عالمگیرزبیر انصاری نے بتایاکہ ’’سردی میں عموماً زکام، بخار اور بدن در د کی شکایت والے زیادہ مریض آتے ہی ہیں مگر امسال سردی میں وائرل فیور والے بھی کافی مریض آرہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’اس بار عام دنوںکے مقابلے ان امراض کی شکایت لے کر آنے والوں کی تعداد ۵۰؍ فیصد زیادہ ہے۔‘‘  
 کامت گھرمیںنجی ڈسپنسری چلانے والے ڈاکٹر پربھاکر وشوکرما نے بتایا کہ ’’گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے نزلہ، کھانسی میں مبتلا وائرل بخار کے مریضوں کی تعداد میں خاصااضافہ ہوا ہے۔ پہلے جہاں نزلہ اور کھانسی کے ۲؍سے ۳؍ مریض آتے تھے، اس وقت ۱۵؍سے۲۰؍ مریض یومیہ آ رہے ہیں۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بارش کے دوران جتنے مریض وائرل فیور سے متاثرہو کر آرہے تھے، اس وقت بھی اتنے ہی تعداد مریضوں کی ہے۔ ‘‘انہوں نے بتایا کہ’’ وائرل فیورکی وجہ سے  مریضوں کے پلیٹ لیٹ کاؤنٹ اور ہیموگلوبن کم ہو جاتے ہیں اور  اسی جگہ سی آر پی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مریضوں کو بخار کے ساتھ ٹھنڈ لگنے کے ساتھ سر درد اور جوڑوں کا درد، قے اور اسہال ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مریض کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔‘‘
 اندرا گاندھی سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجیش مورے  نے بتایا کہ ’’اندرا گاندھی میموریل اسپتال میں جہاں پہلے یومیہ ۱۵۰؍مریض سردی،کھانسی اور زکام سے متاثر ہوکر آتے تھے وہاں اب ان کی تعداد بڑھ کر ۱۸۵؍تک پہنچ گئی ہے۔نزلہ،زکام اور کھانسی کے بڑھے ہوئے مریضوں کو جہاں پرائیویٹ ڈاکٹرز وائرل  فیورکہہ رہے ہیںوہیں ڈاکٹر راجیش مورے نے کہا کہ بغیر تحقیقات کے اسے وائرل کہنا مناسب نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK