Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندھیری :لاء سی ای ٹی میں محمد رضوان خان کی ۱۰۰؍ پرسنٹائل سے شاندار کامیابی

Updated: June 13, 2026, 4:33 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

یہاں ملت نگر میں رہائش پزیر ۳۷؍سالہ محمد رضوان شوکت علی خان جو سینٹرل کسٹم ڈپارٹمنٹ کے سپرنٹنڈنٹ ہیں، نے حال ہی میں ۳؍ سالہ ایل ایل بی کورس میں  داخلہ کیلئے ’ایم اے ایچ-ایل ایل بی-۳؍ ایئرس سی ای ٹی -۲۶ء‘‘ میں ۱۰۰؍پرسنٹائل حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔

Muhammad Rizwan Shaukat Ali Khan. Photo: INN
محمد رضوان شوکت علی خان۔ تصویر: آئی این این

یہاں ملت نگر میں رہائش پزیر ۳۷؍سالہ محمد رضوان شوکت علی خان جو سینٹرل کسٹم ڈپارٹمنٹ کے سپرنٹنڈنٹ ہیں، نے حال ہی میں ۳؍ سالہ ایل ایل بی کورس میں  داخلہ کیلئے ’ایم اے ایچ-ایل ایل بی-۳؍ ایئرس سی ای ٹی -۲۶ء‘‘ میں ۱۰۰؍پرسنٹائل حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ 
محمد رضوان کی مثالی کامیابی میں بالخصوص ان کے والد محمد شوکت علی خان جو اجمیرالیکٹرسٹی نگم لمٹیڈ میں ایڈیشنل ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ہیں ، کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے اپنے۴؍بیٹوں اور ۲؍بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ ان کی تعلیم وتربیت کیلئے کسی سے مدد نہیں لی بلکہ ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنی املاک فروخت کردی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کو بجلی تقسیم کا اختیار دینے کی تجویز

محمد رضوان کا تعلیمی سفر سکر کے فتح پور روڈ پر واقع راجستھان سیکنڈری اسکول سے ہوا۔ انہوں نے ۲۰۰۴ء میں ۷۸؍فیصد مارکس اور ۲۰۰۶ء میں ۸۴؍فیصد مارکس سے بارہویں پاس کی۔ ۲۰۱۱ء میں بی ٹیک میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۴ء تک متعدد ایڈمنسٹریٹیو امتحانات میں حصہ لیا۔ ہر امتحان میں کامیابی درج کرائی لیکن مختلف وجوہات کی بناپر ملازمت جوائن نہیں کی۔ ۲۰۱۴ ء کے آخری میں دہلی میٹرو میں اسٹیشن کنٹرولر اور ٹرین آپریٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس دوران بھی انہوں اسٹاف سلیکشن کمیشن کا امتحان دیاتھا۔ اس میں ملنے والی کامیابی کی بناپر انہیں ممبئی میں سینٹرل ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں انسپکٹر کے عہدہ پر ملازمت کاموقع ملا۔ وہ ۲۰۱۶ء سے ممبئی میں مقیم ہیں ۔ فی الحال سینٹر ل کسٹم ڈپارٹمنٹ میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ 
اب وہ وکالت کا کورس کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے انہوں نے حال ہی میں ’ایم اے ایچ-ایل ایل بی-۳؍ ایئرس سی ای ٹی -۲۶ء‘کاامتحان دیا تھا۔ 
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK