Updated: July 31, 2026, 3:58 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں تعددِ ازدواج (Polygamy) پر پابندی اور مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق دائر آئینی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست میں تعددِ ازدواج کے خاتمے، اسے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت غیر قانونی قرار دینے، متاثرہ خواتین کے لیے امدادی فنڈ قائم کرنے اور مسلم شادیوں و طلاقوں کے لازمی اندراج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں تعددِ ازدواج پر پابندی اور مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے دائر ایک آئینی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے دوران درخواست میں اٹھائے گئے نکات پر حکومت کا مؤقف طلب کیا، تاہم اس مرحلے پر درخواست کے میرٹ پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔ درخواست بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن (BMMA) نے چند ماہرین تعلیم اور صحافیوں کے ساتھ مل کر دائر کی ہے۔ درخواست گزاروں کی وکیل شریا مینی نے سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج عدالت نے ہماری آئینی درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے ہماری چاروں بنیادی اپیل کا نوٹس لیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: پارلیمنٹ میں انسدادِ پیپر لیک ترمیمی بل منظور
درخواست میں پہلی استدعا یہ کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں تعددِ ازدواج کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، کیونکہ درخواست گزاروں کے مطابق یہ عمل مسلم خواتین کے لیے ناانصافی اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ دوسری استدعا میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ ۸۲؍ کے تحت تعددِ ازدواج کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ درخواست گزاروں نے اپنی تیسری استدعا میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی خواتین، خصوصاً پہلی اور دوسری بیویوں، کے لیے خصوصی مالی امدادی فنڈ قائم کیا جائے جو متعدد شادیوں کے باعث معاشی یا سماجی مشکلات کا شکار ہوں، تاکہ انہیں عبوری مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ چوتھی استدعا میں مسلم شادیوں اور طلاقوں کے لازمی قانونی اندراج کا مطالبہ کیا گیا ہے، جیسا کہ ہندو شادیوں کے لیے رجسٹریشن کا نظام پہلے سے موجود ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ باقاعدہ رجسٹریشن سے خواتین کے قانونی حقوق کے تحفظ اور خاندانی تنازعات کے حل میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے: سابق بس ڈرائیور کے پاس سے ۲۸؍ کروڑ نقد برآمد
سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے درخواست میں کیے گئے مطالبات کو قبول کر لیا ہے، بلکہ عدالت نے صرف مرکزی حکومت سے اس معاملے پر اس کا باضابطہ جواب طلب کیا ہے۔ آئندہ سماعت میں حکومت کے جواب اور دیگر فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی۔ یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر ملک میں شخصی قوانین، مسلم خواتین کے حقوق اور خاندانی قوانین میں اصلاحات سے متعلق بحث کو نمایاں کر سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کی آئندہ سماعتوں اور قانونی دلائل کے بعد ہی سامنے آئے گا۔