Updated: July 31, 2026, 3:30 PM IST
| New Delhi
پارلیمنٹ نے پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل ۲۰۲۶ء منظور کر لیا ہے، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ صرف سخت قوانین کافی نہیں بلکہ ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے امتحانی نظام میں شفافیت، دیانت داری اور طلبہ کے اعتماد کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’پیپر لیک مافیا کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
ہندوستانی پارلیمنٹ نے عوامی امتحانات میں پیپر لیک اور منظم نقل کے خلاف قانون کو مزید سخت بنانے کے لیے پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل ۲۰۲۶ء منظور کر لیا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ امتحانی نظام کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے صرف قانونی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں وسیع اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’تعلیمی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔ ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں ہر طالب علم کو اپنی محنت کے مطابق منصفانہ موقع ملے اور امتحانات کی ساکھ پر کوئی سوال نہ اٹھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سابق بس ڈرائیور کے پاس سے ۲۸؍ کروڑ نقد برآمد
انہوں نے مزید کہا کہ ’’پیپر لیک مافیا کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ حکومت امتحانی نظام کو دھوکہ دہی سے پاک بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔‘‘ حکومت کے مطابق ترمیمی قانون کا مقصد منظم انداز میں پیپر لیک، سوالیہ پرچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت، امتحانی دھوکہ دہی اور اس سے منسلک مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت سنگین خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکیں گے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ہو سکے۔
یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں مختلف مسابقتی امتحانات، خصوصاً NEET اور سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے واقعات نے لاکھوں امیدواروں میں بے چینی پیدا کی تھی۔ ان واقعات کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت اور سیکوریٹی پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے ذریعے امتحانی اداروں کی جواب دہی میں اضافہ ہوگا، ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا اور ایسے منظم گروہوں کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہوگی جو سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے میں ملوث پائے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی لیڈر کی حنا گاوت اور رکھشا کھڑسے کے تعلق سے گالی گلوج
وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ طلبہ میں دیانت داری، میرٹ اور محنت کی اقدار کو فروغ دیں تاکہ امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ہر امیدوار اپنی صلاحیت اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سخت قانونی اقدامات ضروری ہیں، تاہم امتحانات کے انتظام، سوالیہ پرچوں کی سیکوریٹی، ڈجیٹل نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی یکساں توجہ دینا ہوگی تاکہ مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔