Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کو بجلی تقسیم کا اختیار دینے کی تجویز

Updated: June 13, 2026, 11:51 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

فرنچائز ماڈل کے تحت بجلی فراہمی کا مطالبہ، ماہرین نے فنی، مالی اور قانونی پہلوؤں کے جامع جائزے پر زور دیاتاکہ عوامی مفاد کے پیش نظر فیصلہ کیا جاسکے۔

Bhiwandi Nizampur City Municipal Corporation building. Photo: INN
بھیونڈی نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن کو شہر میں بجلی کی تقسیم و فراہمی کا اختیار دلانے کے مطالبے نے شہری و انتظامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک مقامی سماجی کارکن زاہد مختار شیخ نے میئر نارائن چودھری کو تحریری درخواست پیش کرتے ہوئے بجلی ایکٹ۲۰۰۳؍کے تحت کارپوریشن کو بجلی تقسیم کی فرنچائز حاصل کرنے کے لئے قرارداد منظور کرنے اور اسے ریاستی حکومت و متعلقہ اداروں کو ارسال کرنے کی اپیل کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی ایکٹ۲۰۰۳؍ کے تحت مقامی خود مختار اداروں کو بجلی کی تقسیم کے شعبے میں حصہ لینے کی قانونی گنجائش حاصل ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر بھیونڈی میونسپل کارپوریشن بجلی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالتی ہے تو شہریوں کو بہتر خدمات کے ساتھ نسبتاً کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جا سکتی ہے جبکہ کارپوریشن کی آمدنی میں اضافہ ہونے سے شہری سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی تقویت ملے گی۔ درخواست گزار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کا نظام مقامی سطح پر منتقل ہونے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، انتظامی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور شہر کی ہمہ جہت ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے میونسپل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں باضابطہ قرارداد منظور کرکے مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی (مہاوترن) اور ریاستی حکومت کو تجویز ارسال کی جائے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تجویز پر عمل درآمد محض میونسپل کارپوریشن کی قرارداد سے ممکن نہیں ہوگا۔ بجلی کی تقسیم و فراہمی ایک نہایت حساس، تکنیکی اور سرمایہ طلب شعبہ ہے جس کے لئے ریاستی حکومت، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور بجلی کمپنیوں کی منظوری کے ساتھ ساتھ مالی اور تکنیکی استعداد کا تفصیلی جائزہ بھی ضروری ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : شہر کو آلودگی سے بچانے کی مہم تیز

ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں کا تعین بھی ریگولیٹری نظام کے تحت کیا جاتا ہے، اس لئے بجلی کی تقسیم کا اختیار مقامی ادارے کو منتقل ہونے کے باوجود سستی بجلی کی فراہمی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لئے معاشی اور فنی بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی درکار ہوگی۔ شہری حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے تو اس کے ممکنہ فوائد اور چیلنجز دونوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہئے، تاکہ عوامی مفاد، مالی استطاعت اور تکنیکی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ کیا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK