اس مسئلے کا اب تک کوئی حل نہیں نکالاجاسکا ہے۔ گاڑی والوں کو دشواریاں ہوسکتی ہیں۔
امسال بھی اندھیری سب وے بارش کے موسم میں زیرآب آسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این
مانسون میں اندھیری سب وے میں پانی جمع ہونے کے مسئلے کا اب تک کوئی حل نہیں نکالا جاسکا ہے اور برسات کا موسم قریب ہے جس کی وجہ سے امسال بھی زیادہ بارش کے دوران بار بار سب وے بند ہونے کا مسئلہ پیش آسکتا ہے۔واضح رہے کہ اندھیری سب وے اندھیری ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ایک کلو میٹر دور واقع ہے اور مشرقی اور مغربی علاقوں کو جوڑنے والا انتہائی اہم راستہ ہے۔ تاہم جب بھی زیادہ تیز بارش ہوتی ہے تو اس سب وے میں فوراً پانی بھر جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۲۵ء میں برسات کے موسم میں اسے ۳۳؍ مرتبہ، ۲۰۲۴ء میں ۳۵؍ مرتبہ جبکہ ۲۰۲۳ء میں ۲۱؍ مرتبہ بند کیا گیا تھا۔
اندھیری سب وے میں پانی جمع ہونے کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ۲؍ ممکنہ منصوبے ہیں لیکن کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہوپارہا ہے۔ پہلا یہ ہے کہ یہاں کی گٹر کی لائن کا راستہ تبدیل کردیا جائے۔ البتہ گٹر کی لائن کا راستہ تبدیل کرنے میں یہ دشواری ہے کہ اس میں کئی مقامات پر ایسے موڑ آرہے ہیں کہ گٹر میں پانی کا بہائو بُری طرح متاثر ہوگا اور کوڑاکرکٹ وغیرہ جمع ہونے کا زیادہ خدشہ پیدا ہوجائے گا جس سے پائپ لائن جلد خراب ہوجائے گی۔
دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ سب وے سے متصل پانی کی زیر زمین ٹنکی یا تالاب تعمیر کیا جائے جس میں برسات کا پانی پائپ لائن اور پمپ لگا کر جمع کیا جائے جس سے سب وےزیرآب آنے سے محفوظ رہے گا اور گاڑیوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی۔ عام طور پر اس طرح کے تالاب ان مقامات پر بنائے جاتے ہیں جہاں برسات میں سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے، بعد میں تالاب کا پانی پمپ کے ذریعہ دیگر مقام پر منتقل کردیا جاتا ہے۔ ماضی میں ہند ماتا جنکشن پر اس طرح کا ’ہولڈنگ پونڈ‘ تعمیر کیا گیا تھا جس سے اس علاقے میں پانی بھرنے کا مسئلہ کافی حد تک کم ہوگیا تھا۔
ایڈیشنل میونسپل کمشنر ابھیجیت بانگر کے مطابق اندھیری سب وے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ’آئی آئی ٹی بامبے‘ کی مدد لی گئی ہے اور انہیں ۱۵؍ جون تک حتمی منصوبہ تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے بعد تعمیراتی کام کیلئے ٹینڈر نکالا جائے گا اور اسی سال اکتوبر تک تعمیراتی کام شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل بی ایم سی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ۲۰۲۴ء میں ۲۰۰؍ کروڑ روپے کا منصوبہ بنایا تھا جسے ۲؍ مرحلوں میں مکمل کیا جانا تھا۔ پہلا مرحلہ اکتوبر ۲۰۲۵ء اور دوسرا مئی ۲۰۲۶ء میں مکمل ہونا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔